اقرار الحسن اغوا یا گرفتار، معاملہ پراسرار بن گیا۔۔ 46

اقرار الحسن اغوا یا گرفتار، معاملہ پراسرار بن گیا۔۔

معروف ٹی وی اینکر اور پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو لاہور میں ان کے گھر سے گرفتارکیا گیا یا اغوا کیا، یہ معاملہ پراسرار بن چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق رات تقریباً سوا دوبجےکے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع اقرار الحسن کے گھر پہنچے اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں، جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) درج تھا۔اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نا معلوم افراد اتوار اور پیر کی درمیانی شب، لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو اغوا کر کے لے گئے۔فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اُتار کر ساتھ لے گئے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح اقرار نے کہا کہ رات کو وہ سو رہے تھے کہ جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔ان کے بقول جب انھوں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو چند افراد گھر کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔فرح اقرار کا کہنا ہے کہ اُن افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اقرار کو باہر نکالو۔فرح اقرار کے مطابق بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں فرح کا کہنا تھا کہ اِن افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انھوں نے ’این سی سی آئی اے‘ لکھا ہوا دیکھا۔اس کے علاوہ اقرار الحسن کی پہلی قرۃ العین اقرار کا بھی ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو کس مقصد کے تحت اغواء کیا گیا اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اقرار الحسن کی بازیابی میں مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔نجی نیوز چینل کے اینکر پرسن وسیم بادامی نے بھی ایک ویڈیو میں اقرار الحسن کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات ملنے کی تصدیق کی۔ وسیم بادامی اقرار الحسن کے ساتھ متعدد پروگراموں میں کام کر چکے ہیں۔وسیم بادامی کا کہنا تھا کہ اقرار الحسن کو لے جانے والے اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور ان کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔ پیر کے روز مقامی عدالت میں انہیں پیش کرنے کی اطلاع پر اقرارالحسن کے اہل خانہ اور وکیل میاں علی اشفاق پہنچے لیکن وہاں این سی سی آئی اے کی جانب سے موقف سامنے آیا کہ انہوں نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا۔۔۔واضح رہے کہ اقرار الحسن پاکستان عوام راج تحریک کے سربراہ اور نجی ٹی وی کے سابق اینکر ہیں۔تاحال اقرار الحسن کو گرفتار کیے جانے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں اور نہ ہی ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے بھی گرفتاری کے حوالے سے باضابطہ بیان سامنے آنا باقی ہے۔ دریں اثنا اقرار الحسن کی گرفتاری پروزیراطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری کا بیان آ گیا ۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس نے اقرار الحسن کو گرفتار نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اقرار الحسن کے بارے میں جیسے ہی کوئی مصدقہ اطلاعات موصول ہوں گی، ان کے اہل خانہ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں