chairman ITNA ki tainaati keliye aik maah ki mohlat

اینکرز کی نوازشریف کی حمایت میں  درخواست،کیا ہوا؟؟

تفصیلی رپورٹ۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مفرور اور اشتہاری ملزمان کی تقاریر نشر کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ کسی مفرور ملزم کو ریلیف دینا مفاد عامہ میں نہیں ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے عدالتی اشتہاریوں کی تقاریر نشر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔  ایکسپریس نیوزکے مطابق دوران سماعت عدالت نےایڈووکیٹ سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کہ آپ ریلیف کس کے لیے مانگ رہے ہیں؟ جو آپ مانگ رہے ہیں اس حکم کا کسی کو تو فائدہ ہوگا؟ پرویز مشرف کیس میں پہلے ہی ہم فیصلہ دے چکے ہیں۔ مشرف کیس میں کہہ چکے ہیں کہ کسی مفرور کے لیے کوئی ریلیف نہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ حالیہ برسوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عدلیہ کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑا، یہ بہت سنجیدہ سوال ہے،درخواست گزار بتا دیں کہ کس کے لیے ریلیف چاہ رہے ہیں؟ اور پیمرا نے کس پر پابندی عائد کی ہے؟ یہاں پر موجود درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں۔ اس آرڈر سے 2 لوگ متاثر ہیں۔سلمان اکرم راجا نے یہ کہا کہ دو نہیں ہزارواں افراد متاثر ہیں۔ان کی بات پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو متاثرہ فریق ہے وہ پیمرا کے حکم کےخلاف اپیل کرسکتا ہے،ساتھ ہی عدالت نے پوچھا کہ درخواست گزار کس مفرور کا انٹرویو آن ایئر کروانا چاہتے ہیں؟عدالت نے کہا کہ کیا اس طرح تو پھر تمام مفرور ملزمان کو اجازت دی جائے؟ مفرور ملزم کی تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے جس پر سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔اس پر عدالت نے کہا کہ مفرور ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیا جاتا ہے، مفرور ملزم پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوتا ہے پھر وہ قانونی حقوق سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،اس کیس میں مفرور ملزم خود عدالت سے رجوع نہیں کر رہے۔

عدالتی ریمارکس پر سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی کا ہمارا حق متاثر ہورہا ہے، آرٹیکل 19 اے آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے، اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ مفرور ہونا بہت سنجیدہ بات ہے، اس طرح ہر مفرور چاہے گا اسے آن ایئر ٹائم دیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے مفرور ملزم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر الزام عدلیہ پر لگا، عدالت پیمرا کا آرڈر منسوخ کرتی ہے تو تمام مفرور کو آن ایئر جانے کا حق ملے گا،عدالت مفرور ملزمان کو ریلیف نہیں دے سکتی۔دوران سماعت سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ پیمرا کا آرڈر صحافیوں اور میڈیا پرسنز کے لیے ہے اس لیے وہ متاثرہ فریق ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پورے جوڈیشل سسٹم (عدالتی نظام) کا امتحان ہے، آپ چاہتے ہیں کہ تمام مفرور ملزمان کو ریلیف دیا جائے، کسی مفرور ملزم کو ریلیف دینا مفاد عامہ میں نہیں، آپ درخواست گزاروں سے اس سے متعلق مزید ہدایات لے لیں۔ اظہار رائے کی آزادی بہت ضروری ہے مگر یہاں پر سوال کچھ مختلف ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کی درخواست سے ریلیف تمام مفرور ملزمان کو ملے گا جو عدالت نہیں دینا چاہتی، اگر کسی کو عدالتی نظام پر اعتماد نہیں اور وہ بھاگ جاتا ہے تو اسے عدالت سرینڈر کرنے تک ریلیف نہیں دیتی، اگر کوئی مفرور ہو تو وہ عدالت کا غیر قانونی آرڈر بھی چیلنج نہیں کر سکتا۔بعد ازاں عدالت نے سلمان اکرم راجا کو کہا کہ آپ کیس کی تیاری کرکے آئیں اور آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں۔جس کے ساتھ ہی معاملے پر مزید سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

دریں اثنا  اے آر وائی نیوزکے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ نے نوازشریف کی تقاریر پرپابندی کیخلاف صحافیوں کی درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ درخواست سادہ نہیں ہے مفرور کی تشریح کردیں ،یہ عدالت کسی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتی ، پیمرا نوٹیفکیشن غیرقانونی ہوتو بھی مفرورکو ریلیف نہیں دے سکتے۔  اسلام آبادہائیکورٹ میں نوازشریف کی تقاریر پر پابندی کیخلاف صحافیوں کی درخواست پر سماعت ہوئی،درخواست نجم سیٹھی ،سلیم صافی ،نسیم زہرہ،غریدہ فاروقی ،عاصمہ شیزاری، منصور علی خان سمیت چند صحافیوں نے دائر کی،درخواست میں سیکرٹری اطلاعات ،چیئرمین ،جی ایم پیمرا کو فریق بنایاگیاتھا،اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من نے کیس پر سماعت کی ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ ریلیف کس کیلئے مانگ رہے ہیں ،پرویز مشرف والے کیس میں ساری چیزیں موجود ہیں،مشرف جب مفرورتھاتوعدالت نے ریلیف نہیں دیا،پیمرا آرڈیننس سیکشن 31 اے کے تحت پیمرا نے نوٹیفکیشن جاری کیا،چینل یا جو فریق متاثر ہے ان کو چاہئے متعلقہ فورم جائیں ،آئین کاآرٹیکل 19 پڑھ لیں ،نوازشریف کا سی این آئی سی ،پاسپورٹ بلاک کیاگیا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ یہ درخواست سادہ نہیں ہے مفرور کی تشریح کردیں ،یہ عدالت کسی مفرور کو ریلیف نہیں دے سکتی ،آپ نے یہ نہیں سوچاریلیف جتنے بھی مفرور ہیں سب کیلئے ہوگا،مفرور کو عدالتوں پر اعتماد کرناہوگا،عدالت نے کہاکہ پیمرا نوٹیفکیشن غیرقانونی ہوتو بھی مفرورکو ریلیف نہیں دے سکتے،عدالت نے سماعت16 دسمبر تک ملتوی کردی۔

انسٹاگرام  اب فیس بک جیسا فیچر متعارف کرائے گا۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں