کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اور اینکر عامر لیاقت حسین بھی اسکینڈلز کوئین اداکارہ میرا سے کسی طور کم نہیں، اداکارہ میرا کی طرح عوامی اینکر کی بھی مختلف اوقات میں متنازعہ ڈرامائی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ عامر لیاقت کے ڈرامائی دعوؤں کے “پہاڑ کھودے” گئے تو اکثر وہاں سے “چوہے نکلے” ہیں اور بیشتر بار تو “مردہ چوہے” برآمد ہوچکے ہیں۔یکم اکتوبر جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی ایسا ہی ہوا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عامر لیاقت نے جمعرات کی شب اپنے مخصوص بریکنگ نیوز اسٹائل میں انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کو فون کرکے خود پر حملے اور ملزمان کی جانب سے جاری تشدد کی لائیو کہانی سنائی۔کالر کی جانب سے حملہ آور پاکستان پیپلز پارٹی کی جھنڈا لگی کار میں سوار افراد بتائے گئے مگر مبینہ طور پر جائے وقوعہ بتائے بغیر عامر لیاقت نے ہنگامی صورتحال کا تاثر دیتے ہوئے جذباتی انداز میں بات ادھوری چھوڑ کر کال ڈراپ کردی۔پھر کیا تھا؟مشتاق مہر کی جانب سے متعلقہ پولیس حکام کو الرٹ کردیا گیا۔ کئی علاقوں میں پولیس حرکت میں آگئی۔ عامر لیاقت کے دفتر، رہائش گاہ اور ممکنہ مقامات پر پولیس پہنچ گئی۔ کئی پولیس افسران کی جانب سے عامر لیاقت حسین سے کوشش کے باوجود فون پر رابطہ نہیں ہوسکتا۔کسی ایک پولیس افسر سے رابطہ ہوا تو ڈرامائی جائے وقوعہ کی حقیقت کھلی۔ہوا کچھ یوں کہ فیڈرل بی ایریا کے علاقے گلبرگ میں عامر لیاقت کی گاڑی کی کسی کار سے معمولی ٹکر ہوئی۔ گاڑی کی ونڈ سکرین پر پیپلز پارٹی کا اسٹکر لگا دیکھ کر عامر لیاقت نے خود پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے حملے کا ڈھونگ رچانے کی کوشش کی۔ عامر لیاقت نے آئی جی سندھ کو فون کے بعد دیگر افسران کو بھی کالیں کیں اور گلبرگ تھانے پہنچ کر بھی ایسی ہی قیامت برپا کی۔ دوسرا فریق بھی تھانے پہنچا تو پتہ چلا کہ رینٹ اے کار کمپنی کی گاڑی میں پیپلز پارٹی کا کوئی کارکن یا عہدے دار نہیں بلکہ کراچی سینٹرل پولیس کا ایک ایس ایچ او سوار تھا۔ تھانے میں عامر لیاقت نے اسے حملہ آور کے طور پر تو پہچانا مگر جب پولیس نے اس کا تعارف پولیس کے ایس ایچ او کے طور پر کرایا تو عامر لیاقت کا ڈرامائی دعویٰ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ معاملہ چند منٹ میں تھانے میں ہی رفع دفع ہوگیا۔ صورتحال سے سندھ کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور آئی جی سندھ کو بھی آگاہ کردیا گیا۔پولیس کو اب یہ تشویش لاحق ہے کہ خدانخواستہ اگر کسی دن حقیقت میں شیر آگیا اور عامر لیاقت کے شور کرنے کے باوجود پولیس حکام نے سنجیدہ نہ لیا تو کیا ہوگا؟

