سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو پر الزامات کے بعد امریکی شہری سینتھیا ڈی رچی نے ناصر عظیم خان کو اپنا وکیل مقرر کر لیا۔تفصیلات کے مطابق چند روز قبل امریکی خاتون نے اپنے سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ 2011ء میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے میرا ریپ کیا جبکہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے ہراساں کیا تھا۔امریکی خاتون کے الزامات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی امریکی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جس کے بعد قانونی جنگ لڑنے کے لیے سینتھیا ڈی رچی نے اپنا وکیل مقرر کر لیا ہے۔امریکی شہری سینتھیا ڈی رچی کے وکیل ناصر عظیم خان 13 جون کو ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوں گے۔
اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے امریکی خاتون صحافی سینتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مخالفت کی تھی۔اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے امریکی شہری سینتھیا ڈی رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ پیپلز پارٹی پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی کی جانب سے ریاست علی آزاد عدالت میں پیش ہوئے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے عدالتی حکم پر اپنا تحریری جواب جمع کرایا، ایف آئی اے نے اپنے جواب میں سینتھیا ڈی رچی کیخلاف مقدمے کی مخالفت کردی۔ایف آئی اے کا موقف تھا کہ سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے بے نظیر بھٹو پر الزامات کی وجہ سے مقدمے کی درخواست آئی، قانون کے مطابق سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے خاندان سے کوئی شکایت درج کروا سکتا ہے درخواست گزار شکیل عباسی متاثرہ فریق نہیں۔ عدالت نے سنتھیا رچی اور پی ٹی اے نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 جون تک جواب طلب کرلیا۔
دورانِ سماعت پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی نے موقف اختیار کیا کہ امریکی خاتون صحافی سینتھیا ڈی رچی نے سوشل میڈیا پر بے نظیربھٹو کے خلاف مہم چلائی۔ پی ٹی اے کو سوشل میٖڈیا سے ٹوئٹ ڈیلیٹ کرانے اور ایف آئی اے کو مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواستیں دیں جس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔عدالت مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کرے۔دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رحمٰن ملک نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 ارب روپے ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھیج دیا۔اس حوالے سے رحمٰن ملک کے ترجمان نے بتایا کہ ان کے وکلا نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو نوٹس بذریعہ کوریئر بھیجوا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرا نوٹس سنتھیا رچی کو نجی چینلز پر رحمٰن ملک کے خلاف من گھڑت الزامات لگانے پر جاری کیا۔دوسری طرف رحمن ملک کی طرف سے ملنے والے نوٹس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے امریکی شہری کا کہنا تھا کہ مجھے تو پہلا نوٹس ہی نہیں ملا۔
دریں اثنا جیونیوزکے مطابق اسلام آباد پولیس نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔پیپلز پارٹی اسلام آباد کے صدر افتخار شہزادہ نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے رجوع کیا تھا۔جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے لیگل سیکشن کا کہنا ہے کہ سنتھیا رچی بظاہر تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 کے تحت بے نظیر بھٹو کی توہین کی مرتکب ہوئی۔لیگل سیکشن کے مطابق سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے دائرہ کار میں آتی ہے۔سلام آباد کی مقامی عدالت میں بھی مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کی گئی ہے لیکن عدالتی نوٹس کے باوجود پیشرفت نہ ہونے پر گزشتہ روز عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو دوبارہ نوٹس جاری کیا۔
