media samet har shobay mein tarbiyat ahem hai

اخبارات کو ریلیف پیکیج ملنا چاہیئے، شبلی فراز۔۔

اے پی این ایس اجلاسٗ وزیراطلاعات نے اخبارات کے مسائل حل کرنیکی یقین دہانی کردی ہے۔اے پی این ایس ارکان کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمٰن پر لگائے گئے الزامات 1970 کی دہائی میں ظہور الہیٰ پر بھینسوں کی چوری کے الزامات جیسے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، اے پی این ایس کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے زوم اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے شرکت کی اور اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاقی حکومت اے پی این ایس کے اٹھائے گئے مسائل پر مثبت ردعمل دے گی خاص طور پر اشتہارات کی تعداد، اے بی سی تصدیق کے عمل کی معطلی۔۔اخبارات  کے لیے ریلیف پیکج، علاقائی پریس اور علاقائی اشاعتوں کی بہتری، ایف بی آر کی جانب سے ودہولڈنگ ٹیکسز کی فوری واپسی اور سرکاری اشتہارات کی قیمتوں میں بہتری شامل ہے۔۔اجلاس میں سینیٹر شبلی فراز کے علاوہ سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین درانی اور پی آئی او شاہیرہ شاہد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل سرمد علی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو متعدد بار واجبات کی ادائیگی کا کہا ہے جو کہ 1.048 ارب روپے تک جاپہنچے ہیں، لیکن اب بھی بڑی  رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے وفاقی حکومت کے اشتہارات میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ایسے میں میڈیا کو حکومت سے سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشتہارات کی تعداد میں اگر اضافہ ممکن نہیں تو کم از کم اسے 2018 کی سطح پر واپس لایا جانا چاہیئے۔تاکہ موجودہ صورت حال میں اخبارات کی صنعت قائم رہ سکے۔ انہوں نے اس بات کی نشان دہی بھی کی کہ 8ویں ویج بورڈ ایوارڈ میں واجب الادا رقوم کی ادائیگی کی سفارش کی ہے اور اس کے علاوہ حکومتی ریٹس میں اضافے کا کہا گیا ہے تاکہ اخبارات تنخواہوں میں اضافے پر عمل درآمد کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ان سفارشات پر عمل نہیں ہوا تو ویج بورڈ پر عمل درآمد مشکل ہوجائے گا۔ اس موقع پر ارکان نے اس جانب بھی نشان دہی کی کہ اے بی سی نے اخبارات اور پریس پر چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں تاکہ سرکولیشن کی تصدیق کی جاسکے جو ہراسانی کا سبب بن رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورت حال کی وجہ سے اخبارات کی ترسیل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے اور معمول کی سرکولیشن برقرار نہیں رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سرکولیشن تصدیق کا عمل چھ ماہ کے لیے موخر کیا جائے۔وزیراطلاعات نے اپریل 2020 سے نئی ایڈور ٹائزنگ پالیسی پر عمل درآمد کو سراہا ، لیکن پی آئی ڈی کے جاری اشتہارات کی انوائسز پر اب تک عمل درآمد نہیں ہوا اور ادائیگی کا طریقہ کار بھی متعین نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس صنعت کے مالی مسائل میں اضافہ ہوا ہے، خاص کر ملازمین کی بروقت تنخواہ کی ادائیگی نہیں ہورہی ہے۔۔ارکان نے میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے مسئلے کو بھی اٹھایا اور ان کی گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔انہوں نے وزیراطلاعات سے کہا کہ وہ خود میر شکیل الرحمان پر لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیں اور دیکھیں وہ کتنے بےبنیاد ہیں۔ انہوں نے اس کیس کو 1970 کی دہائی میں چوہدری ظہور الہیٰ پر بھینسوں کی چوری کے لگائے گئے الزامات سے تشبیہ دی۔اس پر وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت پرنٹ میڈیا کی اہمیت سے آگاہ ہے اور وہ ان کے مسائل کے حل میں بھی سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت نے اشتہارات کے اجرا سے متعلق پالیسی بنائی ہے، جس کا تبادلہ اے پی این ایس سے کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح دیگر شعبوں کو ریلیف پیکج دیا گیا ہے اسے طرح اخبارات کی صنعت کو بھی ریلیف پیکج ملنا چاہیئے جس کے لیے وہ وزیراعظم سے بات کریں گے۔ودہولڈنگ ٹیکسز کی واپسی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔ جب کہ اے بی سی تصدیق کی معطلی سے متعلق بھی انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت سے مشاورت کے بعد وہ یہ عمل موخر کریں گے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں