vaccination ke bagher arts council mein daakhila band

اخبارات کی پالیسی مارکیٹنگ والے طے کرتے ہیں۔۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ تیرہویں عالمی اردو کانفرنس میں” اردو صحافت کے سو برس” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ صحافت نے عوام کے ذھنوں کو وسعت عطا کی اور یہی صحافت کا کمال ہے، کچھ چینلز پر پابندیاں ہیں جبکہ کچھ آزاد ہیں ، موجودہ دور میں ایک ریموٹ کنٹرول معاشرہ تشکیل پا چکا ہے، ایڈیٹر کا نعم البدل کیبل آپریٹرز کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کی مرضی سے ہی حقائق عوام تک پہنچ پاتے ہیں۔مقررین میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ،مظہر عباس،وسعت اللہ خان ،عاصمہ شیرازی،وجاہت مسعود اوراویس توحید شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض اینکروسیم بادامی نے انجام دئے،سہیل وڑائچ نے کہا کہ حالیہ صحافت میں تحریری پابندیاں نہیں مگر دراصل پابندیاں موجود ہیں ، کچھ چینلز پر پابندیاں ہیں جبکہ کچھ آزاد ہیں ، تاہم اس کے باوجود صحافت نے عوام کے ذھنوں کو وسعت عطا کی اور یہی صحافت کا کمال ہے،صرف قائد اعظم محمد علی جناح ہی واحد رہنما تھے جنہوں نے صحافت اور اخبارات کی اہمیت کو سمجھا۔۔ مظہر عباس نے کہا کہ مزاہمت کے بغیر صحافت اپنا وجود نہیں رکھتی ،پہلے اخبارات کی پالیسیاں ایڈیٹر طے کرتے تھے اب مارکیٹنگ والے طے کرتے ہیں ، وجاہت مسعود نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ایڈیٹر کا نعم البدل کیبل آپریٹرز کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کی مرضی سے ہی حقائق عوام تک پہنچ پاتے ہیں ،اویس توحید نے کہا کہ نوے کی دھائی میں صحافت کے فروغ کا آغاز ہوا جبکہ صدی کے آغاز سے صحافیوں میں خوشحالی کا دور آیا ، حالیہ دور میں پاکستانی صحافت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ، موجودہ صحافت میں اختلاف کی گنجائش نظر نہیں آرہی اور صحافت میں مزاہمت دم توڑتی نظر آرہی ہے ۔ وسعت اللہ خان نے کہا کہ ماضی کی صحافت میں پروفیشنلزم کا عنصر آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھا، عاصمہ شیرازی نے کہا کہ آج کل صحافت میں کٹھ پتلیوں کا دور ہے، پہلے ایک سرکاری ٹی وی تھا اور آج ستر ہیں ، موجودہ دور میں ایک ریموٹ کنٹرول معاشرہ تشکیل پا چکا ہے۔

hubbul patni | Imran Junior
hubbul patni | Imran Junior
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں