ورکرز ایکشن کمیٹی نے جیو انتظامیہ کے بڑوں کو مذاکرات کے لئے جو 23 جمعرات تک وقت دیا تھا، اسے ایکشن کمیٹی نے بڑھا کر اب ستائیس فروری بروز پیر تک کردیا ہے۔۔پپو کا کہنا ہے کہ دی گئی مہلت اور اس وقت کا فائدہ اٹھا کر بڑے عہدوں پر بیٹھے بڑے بڑے ناموں نے ورکرز اور چھوٹے افسران کو لالچ دینا اور ڈرانا دھمکانا شروع کردیا ہے،پپو کا کہنا ہے کہ یہ وہی بڑے افسران ہیں جنہیں ورکرز کا منہ بند کرنے کیلیے رکھا گیا ہے، یہ اعلی افسران خود تو بہت بھاری تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں لیکن جب بات ورکرز کی آتی ہے تو یہ مالکان کو بچت کے نت نئے فارمولے دینا شروع کردیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ورکرزکو کچھ نہ ملے اگر ملے بھی تو اتنا جتنا اونٹ کے منہ میں زیرہ۔۔پپو کے مطابق یہ صرف تب منظرعام پر آتے ہیں جب مالکان پر برا وقت ہوتا ہے، ایسے وقت میں یہ ورکرز کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن مالکان کے مکمل ترجمان بنے ہوتے ہیں، اب بھی وہی کھیل شروع ہوچکا ہے۔پپو کے مطابق ورکرز میں مایوسی پھیلائی جارہی ہے اور چھوٹے درجے کے افسران کو بڑے عہدوں کا لالچ یا پھر دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ آمدنی نہیں ہورہی تو مالکان تو ڈاون سائزنگ کا سوچ رہے ہیں اور ہم نے بڑی مشکل سے روکا ہوا ہے۔پپو کا کہنا ہے کہ جیوملازمین میں بددلی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔۔

السلام علیکم
پلیز یہ بلاگ میرے نام سے شائع نہ کریں، بڑی مہربانی ہوگی، میری نوکری کا سوال ہے۔
ایک بزدل ملازم کی محترم جناب میر شکیل الرحمان سے گزارش
سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتہ جاری ہونے والے ایک نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے غیر ہنرمند مزدوروں کی کم از کم اجرت کا فیصلہ یکم جون 2022 سے ہوا تھا۔ جس کے مطابق سندھ بھرکے غیر ہنرمند مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 25 ہزارروپے ماہانہ طے کی گئی تھی۔ کچھ اداروں میں تو اس پر عمل ہورہا ہے مگر کچھ تاحال مزدور کو اس کا حق دینے سے کترارہے ہیں۔
میرا تعلق جیونیوز سے ہےاورمیں گزشتہ 11 سال سے جیو نیوز سے منسلک ہوں۔ میرے ساتھ میرے تمام کولیگز پانچ پانچ، دس دس سال سے اس ادارے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جیو پر جب مشکل وقت آیا اور ملازمین کی تنخواہیں وقت پر ادا نہیں ہوپارہی تھیں تو مہینوں تنخواہ کے بغیر کٹھن حالات میں بھی ہم نے جیو کا ساتھ نہ چھوڑا۔ سندھ حکومت نے غیرہنرمند اور مزدور کی تنخواہ 25 ہزارروپے دینے کا پابند کیا ہے کہ جبکہ میں نے بی ایس کیا ہوا ہے اور میں 11 سال سے اتنے بڑے ادارے سے منسلک ہوں،دکھ اس بات کا ہے کہ میری تنخواہ صرف 28 ہزار روپے ہے۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ایک مزدور اور ایک پڑھے لکھے شخص میں کوئی فرق ہی نہیں؟
آپ کو یقین آئے یا نہ آئے کم از کم ایک لمحہ کو اتنا تو ضرور سوچ سکتے ہیں کہ جب پیٹرول 272 روپے لیٹر ہو، آٹا 130 روپے کلو، ایک کلو پیاز200 روپے اورپکوان تیل 500 روپے کلو تک جاپہنچا ہے اس مہنگائی کے عالم میں 28 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والا ورکرجس کا 1 بچہ بھی ہو،کیسے گزارا کرسکتاہے؟ جبکہ پانی بجلی گیس کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہوں؟
بیشتر نیوز چینلز مالکان نے اپنے ورکرز کی پریشانی کا احساس کرتے ہوئے تنخواہیں اچھی خاصی بڑھائی ہیں، لیکن جیو نیوز کی انتظامیہ تاحال ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے حالانکہ جیو کے کچھ ملازمین نے ہمت کرکے احتجاج بھی کیا ہے اور اب بھی کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح انتظامیہ کو تنخواہ بڑھانے کےلئے راضی کیاجائے۔
ایک بات جو میں کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اسے آپ میرا ڈرخوف سمجھ لیں یااپنی بیوی بچوں کا احساس، میں نہ تو پہلے کبھی احتجاج کا حصہ رہا ہوں اور نہ اب ہوں۔ لیکن میری صرف ایک گزارش ہے کہ ان تین چار سالوں میں مہنگائی 200 گنا بڑھی ہے جبکہ تنخواہیں وہیں کی وہیں، خدارا کمزور طبقے پر رحم کریں۔ تنخواہیں بڑھانے کےسوا اب کوئی چارہ نہیں ہے سر۔ پلیز تنخواہوں میں اضافہ کرتے وقت 40 ہزار سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کا خصوصی خیال رکھیں۔ یہ کمزور طبقہ اس وقت ظلم کی چکی میں پس رہاہے۔ ایک اور اہم بات جس سے جیو کے ذمہ داران کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ ایک طرف تو مہنگائی نے مجھ جیسے کم آمدنی والے ملازمین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور دو سری جانب جیو کی انتظامیہ نے 4 ماہ سے زائد عرصے کے میڈیکل بلز روکے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف علاج معالجے میں شدیدپریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے کہ بلکہ ادارے پر واجب الادا بلز نے بھی مقروض کردیاہے۔ مجھے امید ہے یہ تحریر کسی کی ذات پر گراں نہیں گزرے گی کیوں کہ یہ کسی کے خلاف کوئی مہم نہیں بلکہ اصل حقائق سامنے لانے کی کوشش ہے۔ امید ہے جیو کی انتظامیہ مجھ جیسے سینکڑوں کمزور اور بزدل ملازمین کی ضرور داد رسی کرے گی جو نوکری سے نکالے جانے کے خوف سے احتجاج نہیں کرسکتے۔