روزنامہ ڈان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے متعلق بڑھتی ہوئی پابندیوں اور ضوابط پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر متوازن یا حد سے زیادہ پابندیاں صحافت، معلومات تک رسائی اور قابلِ اعتماد خبر رسانی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ڈان کے مطابق مصنوعی ذہانت تیزی سے صحافت اور ابلاغ کے شعبے کا حصہ بن رہی ہے، جہاں اس ٹیکنالوجی کو تحقیق، معلومات کے تجزیے، ترجمے اور دیگر صحافتی امور میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اے آئی کے استعمال کے ساتھ غلط معلومات، مواد کی صداقت اور ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق اہم سوالات بھی موجود ہیں۔ادارتی مؤقف میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایسے ضوابط ضروری ہیں جو شفافیت، جواب دہی اور عوام کے مفاد کو یقینی بنائیں، تاہم غیر ضروری پابندیاں آزاد اور قابلِ اعتماد صحافت کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق اے آئی سے متعلق پالیسی سازی میں آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی، صارفین کے حقوق اور ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے درمیان توازن قائم کرنا اہم ہے۔ڈان نے اس امر پر زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر محدود کرنے کے بجائے اس کے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے، شفاف اصول وضع کرنے اور صحافتی اداروں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔
12
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل