adakara hamla case muntaqee anjaam ko pohonch gaya

اداکارہ کی حمایت میں اداکارائیں ۔۔

خصوصی رپورٹ۔۔

اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما خان پرتشدد کے معاملے نے پورے سوشل میڈیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب کہ فنکار برادری بھی عظمیٰ خان کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

اداکارہ ماہرہ خان نے عظمیٰ خان معاملے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بہت ہی مختلف موضوعات پر بحث چل رہی ہے۔ ایک اپنی بیوی کو دھوکا دینے والے شخص کی بے وفائی کا موضوع ہے جس پر کوئی بھی شخص اپنے صحیح ہوش و ہواس میں اس کی حمایت میں کھڑا نہیں ہوسکتا جب کہ دوسرا موضوع ہے کہ کس طرح طاقتور کچھ بھی کرکے صاف نکل جاتا ہے۔ماہرہ خان نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ احتساب کے ساتھ کھڑی ہوں توقع کرتی ہوں کہ اس سرزمین پر ہم سب کے ساتھ قانون کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے۔

ماہرہ خان کے علاوہ اداکارہ مہوش حیات نے بھی عظمیٰ خان کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا آئیے اخلاقی اور قانونی مسئلے میں فرق کرتے ہیں۔ دو غلط مل کر کبھی ایک صحیح نہیں ہو سکتے۔اپنے گھر پر سلامتی کا حق قانون میں شامل ایک بنیادی انسانی حق ہے  اور یہ عہدیداروں کے لیے ایک حقیقی امتحان ہے جنہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

نیوز اینکر جیسمین منظور نے عظمیٰ خان معاملے پر  آواز اٹھاتے ہوئے مہوش حیات سے سوال کیا ہے کہ کیا یہ آپ کا فرض نہیں کہ آپ اپنے ساتھی فنکاروں کے حق میں آواز اٹھائیں کیوں آپ اور آپ کی فنکار برادری خاموش ہے؟مہوش حیات نے جیسمین منظور  کو ان کا فرض یاددلانے پر طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے میرا فرض یاد دلانے کے لیے شکریہ۔ میں نے ہمیشہ اپنی فنکار برادری کی حمایت کی ہے جس کے واضح ثبوت بھی موجود ہیں۔ شاید آپ کو  میڈیا ہاؤسز اور نیوز چینل سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کیوں اس خبر کی کوریج کرنے میں ناکام ہوئے؟

ہانیہ عامر نے انسٹام گرام ویڈیو جاری کی جس میں انہوں نے عظمیٰ خان کو زدو کوب کرنے والی خواتین پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام معاملہ طاقت کا ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر میری کسی سے لڑائی ہوجائے تو وہ لوگ طاقتور ہونے کی وجہ سے میرے گھر میں گھس آئیں، میری بہن پر تشدد کریں اور ہم پر مٹی کا تیل چھڑک دیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں بغیر اجازت کسی کے گھر میں گھسا گیا اور تقدس کا بھی خیال نہیں رکھا گیا، اس طرح کسی کے ہاں جانا کسی کو قتل کرنے کے مترادف ہے، یہ جرم ہے کیوں کہ اگر یہی کام اگر کوئی چور کرتا ہے اور کسی کے گھر میں گھس کر انہیں جانی نقصان پہنچاتا ہے تو پولیس اس چور کر پکڑ لیتی لیکن یہاں معاملہ کچھ اور ہے، یہ خاتون پاپا کی پرنسز ہیں اس لیے انہیں کچھ نہیں کہا جا رہا۔اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ عظمیٰ خان ایف آئی آر درج کروانے گئیں لیکن اُن کی ایک نہیں سنی گئی، کیا یہ خاندان قانون سے بھی بالا تر ہے؟ اور اگر اس بڑے خاندان کے خلاف آیف آئی آر درج ہو بھی جاتی ہے تو بعد میں ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے کا بھی کہا جائے گا جو کہ ہمارے لیے شرمندگی کی بات ہوگی اور یہ سب صرف اس لیے ہوسکتا ہے کہ کیوں کہ یہاں ایک پارٹی بہت امیر اور اثر و رسوخ والی ہے۔(خصوصی رپورٹ)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں