کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران ،سیکرٹری ارمان صابر اور دیگر عہدیداروں نے آپ نیوز چینل کی اچانک بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پیمرا اور وفاقی وزرات اطلاعات و نشریات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس اقدام کا نوٹس لیتے ہوئے سیکڑوں صحافیوں اورمیڈیا سے وابستہ افراد کی جبری برطرفی کا نوٹس لیں۔ روزنامہ جناح کے بعد ملک ریاض کا یہ دوسرا میڈیا پروجیکٹ ہے جسے اس طرح بند کر دیا گیا۔یہاں جاری بیان میں کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورت حال کے باعث اس وقت صحافی مشکل ترین حالات میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔تنخواہوں کی کٹوتی اور تاخیر کے باوجود عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے صحافیوں نے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈالا ہے، اس کے باوجود ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے کی بجائے ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے تو صحافیوں کو ملازمتوں سے نکالا جارہا تھا لیکن اب پورے ادارے کو ہی بند کرکے ایک نئی مثال قائم کی گئی ہے۔ کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ ایک طویل عرصے سے میڈیا مالکان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صحافیوں اور میڈیا ورکرزکا معاشی قتل کر رہے ہیں لیکن وفاقی و صوبائی حکومتیں، سینیٹ قومی و صوبائی اسمبلیاں,سیاسی و مذہبی جماعتیں، پیمرا، عدلیہ، انسانی حقوق کی قومی اور بین الاقوامی تنظیمیں سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وصوبائی حکومتوں نے اس حوالے سے اب تک جو بھی اقدامات کیے ہیں ان کا فائدہ صرف میڈیا مالکان کو ہوا۔ انہوں نے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور پیمرا حکام سے مطالبہ کیا کہ آپ نیوز کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے اسے بحال کروانے کے اقدامات کیے جائیں یا وہاں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کے بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے اور انہیں چھ ماہ کی مکمل تنخواہیں ادا کی جائیں۔ آپ نیوز کی بندش کا فیصلہ ظالمانہ اقدام ہے ،جس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

عنوان:آپ نیوز آغاز سے اختتام
آپ نیوز کی بندش کا سن کر بہت افسوس ہوا. ایک ایسا چینل جس کی لانچنگ کے وقت بڑے بڑے بول بولے گئے مگر باتیں صرف باتوں تک محدود رہ گئیں.جب شروعات تھی تواس بات پر بہت خوشی ہوئی کہ ایک صحافی کا اپنا ذاتی چینل ہے اور اس کی پالیسی صحافی دوست ہو گی لیکن جب راز کھلے تو اندر کچھ اور ہی نکلا ایک تو یہ کہ چینل آفتاب اقبال کا ذاتی نہیں وہ صرف سی ای او ہیں اصل سرمایہ دارعقیل کریم ڈھیڈی ہیں جو کہ کراچی کے بہت بڑے تاجر ہیں..
آپ نیوز کے سابق ایڈمن اسد قادر نےبہت بڑے انکشافات کیے ہیں جس میں انھوں نے بتایا کہ کیسے آفتاب اقبال کے بھائی جنید اقبال نے پٹھان کے مال کو خوب لوٹا. انھوں نے بتایا کہ آپ نیوز کا تمام سامان کرائے پر حاصل کیا گیا تھا. اور جس کمپنی سے یہ سامان حاصل کیا گیا وہ کمپنی جنید اقبال کی تھی. جو چینل شروع کرنے سے کچھ دن پہلے ہی وجود میں آئی تھی. لاجسٹک کے لیے ایک کمپنی SAN لاجسٹک سے معاملات طے پائے اور ذرا کمال اتفاق دیکھیے وہ کمپنی بھی آفتاب اقبال کی ملکیت نکلی. جنید اقبال نے تمام ٹھیکیداروں سے کمیشن بھی لے رکھا تھا. رنگ والے سے الیکٹرانکس تک. آفتاب اقبال کا اپنا پروگرام “خبرزار” کی ریکارڈنگ انکے اپنے فارم ہاؤس پر ہوتی تھی جسکا ماہانہ کرایہ 30لاکھ وصول کیا جاتا تھا. اسد قادر نے بتایا کہ آفتاب اقبال کی دفتر میں آمد کا بھی منفرد انداز تھاوہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس کے علاوہ کسی اور عملے کے فرد سے بات تک نہ کرتے. عقیل کریم ڈھیڈی کو بتایا گیا تھا کہ یہ مکمل پراجیکٹ 1 ارب روپے میں مکمل ہو گا مگر ڈھیڈی صاحب کو ہوش تب آیا جب اخراجات 2 ارب روپے تک پہنچ گئے..
عقیل کریم نے ایک آڈٹ ٹیم بٹھائی. ٹیم نے آفتاب اقبال کے بھائی کو ذمہ دار قرار دیا اور عقیل کریم کو خبر کی. عقیل کریم ڈھیڈی یہ چینل ملک ریاض کو بیچ کر چلے گئے.
اب بات آتی ہے ملک صاحب کی انتظامیہ کی. ملک ریاض نے اپنی بیٹی کو سی ای او لگایا اور آفتاب اقبال سے ہی طے کیا کہ وہ پروگرام ریکارڈکر کے انھیں دیں گے اور اسکا طے شدہ معاوضہ لیں گے اسکے علاوہ انکا چینل سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لیکن آفتاب اقبال اس کے بعد بھی آفس آتے رہے اور سی ای او کا پروٹوکول انجوائے کرتے رہے. بعد میں انکی ملک ریاض کی بیٹی کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی اور وہ نیو نیوز چلے گئے.
اور اب آپ نیوز بند ہو چکا ہے اور تقریباً 600سے زائد ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں. ان سب کے لیے دعا اور نیک خواہشات. اللہ جلد انھیں کو روزگار کا وسیلہ فراہم کرے. آمین