آگے کی نہیں ،عزت کی سوچ

تحریر : ناکام صحافی

ہم نیوز میں تبدیلی کی لہر چل پڑی ہے بالآخر سلطانہ آپا کو اپنے اسٹاف کا خیال آہی گیا اور انہوں نے اسلام آباد آکر تمام خواتین اسٹاف سے ملاقات کی اور انہیں تحفظ کی یقین دیانی کرائی ان کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ جس طرح وہ اپنے گھر میں محفوظ ہیں اسی طرح اس دفتر میں بھی محفوظ ہیں آپا کے اس اقدام سے اسٹاف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے جس شخص یا شخصیات کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ آپا کو خود آکر خواتین کو اس بات کا یقین دلانا پڑا ان کے خلاف  کوئی ایکشن کیوں نہیں ہوا وہ کون لوگ ہیں جو انہیں اس حرکت پر بھی بچانے میں کامیاب ہوگئے کیا وہ لوگ اپنی ان حرکات سے باز آجائیں گے کیا وہ انتقامی کارروائی نہیں کریں گے کیونکہ صرف وہی جانتے ہیں انہوں نے کس کو ہراس کیا کس کو کس کے زریعے ملاقات کا پیغام پہنچایا جس کی شکایت آپا تک پہنچی یقیناً وہ لوگ اور ان کے کرتا دھرتا انتقام بھی لیں گے اور ان مظلوموں کو نشان عبرت بھی بنائیں گے ایک افسر نے تو اس بات کا اظہار کر بھی دیا ہے کہ وہ جانتا ہے اسلام آباد کی باتیں کراچی کون پہنچا رہا ہے اللہ پاک اپنا رحم فرمائے سلطانہ آپا سے صرف اتنی سی درخواست ہے کہ آپ کا اور آپ کے ادارے ہم نیٹ ورک کا نام بدنام کرنے والوں کے خلاف انکوائری کرائیں اور سخت سے سخت ایکشن لیں ہمارے ساتھ کام کرنے والی خواتین کو وہی عزت ملنی چاہئے جو ہم اپنے گھر کی خواتین کو دیتے ہیں ایک اچھے اقدام کو ادھورا نہ چھوڑیں بہت سی خواتین اس میٹنگ میں بات نہیں کرسکیں کیونکہ وہ اتنی خوفزدہ ہیں کہ اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہیں            یہ تو تھی خواتین اسٹاف کی بات دوسرا اہم مسئلہ تمام اسٹاف کا مشترکہ ہے اور اور وہ ہے سیلریز میں ہونے والی کٹوتیوں کا  مارچ کی سیلری پوری ملنے پر خوش اسٹاف اب بھی یہ امید لگائے بیٹھا ہے کہ اپریل کی جوسیلری رمضان المبارک کے آغاز میں ملے گی وہ بھی پوری دے دی جائے تاکہ اسٹاف بھی اپنا رمضان اور عید اچھے انداز میں منا سکے ۔ 28 مارچ کو لکھا گیا خط شاید آپ تک نہیں پہنچ سکا یا آپ کو اس خط کے مندرجات پر اعتراض ہوسکتا ہے ہم نے آپ کے اسٹاف یعنی ہم سب کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا ہماری لکھی ایک ایک بات کا ثبوت ہمارے پاس موجود ہے آپ انکوائری کرائیں اور خود فیصلہ کریں کہ اسٹاف کے ساتھ زیادتی کون کررہا ہے ۔ ہم نیوز میں ملازمت کےلئے جن لوگوں نے انٹرویو لئے ان میں سے دو اہم شخصیات ادارے میں نہیں رہیں ان لوگوں نے جتنا اسٹاف رکھا وہ سب ہم نیوز کے لئے تھا ان کا ذاتی نہیں تھا یہاں ایک بات بتادیں پورے اسٹاف میں ان کاکوئی ایک بھی رشتہ دار نہیں ہے پھر کیوں آپ کے اسٹاف کو ہم نیوز کے مخصوص اسٹاف کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے دو افسران کی فراہم کردہ فہرست میں گڈ اور بیڈ کے نشانات لگا کر انہیں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اس اسٹاف کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس کا انٹرویو لینے والے پینل میں ندیم رضا صاحب اور ارسلان بختیار صاحب شامل تھے اگر وجہ صرف یہ ہے تو نائنٹی پرسنٹ اسٹاف کا انٹرویو تو انہوں نے ہی کیا تھا پھر انتقام صرف مخصوص لوگوں سے ہی کیوں کسی کی ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر اس کی تذلیل کی جارہی کیوں مخصوص لوگوں کو کچھ مخصوص وجوہات کی بنا پر ریلیف دیا جارہا ہے  افسران بالا تک رسائی کے لئے اور ان سےتعلقات  کی بہتری ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انتقامی کارروائیاں کرکے ان کو خوش کیا جارہا آپا ایک نظر اس طرف بھی ڈال لیں خواتین کی طرح مرد اسٹاف بھی آپ کے انصاف کا منتظر ہے آپ سے ایک بار پھر انتہائی عاجزانہ درخواست ہے اسٹاف کو ملازمت سے نکالنےاور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے فیصلے واپس لے لیں رمضان المبارک کا مہینہ ہے دعائیں  لیں اس ماہ مبارک کی برکت سے بہت سے بگڑے کام سنور جائیں گے اور دعا تو بڑے بڑے طوفان ٹال دیتی ہے آنے والے وقت میں دعائوں کی بہت ضرورت ہوگی ہمیں یقین ہے کہ یہ تحریر آپ تک ضرور پہنچے گی خط تو آپ تک پہنچنے نہیں دیا گیا لیکن آپ تک اپنی بات پہنچانے کا یہ راستہ ہمیں میسر ہے۔۔۔(ناکام صحافی)۔۔

( ناکام صحافی کے نام سے اس تحریر کے لکھاری ہم نیوز کے ملازم ہیں، اس لئے جو کچھ بھی لکھا ہے سچائی پر مبنی ہے،ہم نہیں چاہتے کہ اس تحریر کی وجہ سے اس کی جاب کو خطرہ ہواس لئے ان کا نام شائع نہیں کررہے، اگر ہم نیوز انتظامیہ یا ہم نیوزکا کوئی ترجمان اس تحریر کے حوالے سےاپنا موقف دینا چاہے تو ہم اسے بھی ضرور شائع کریں گے۔۔علی عمران جونیئر)

How to Write for Imran Junior website
How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں