ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیوں اور سوشل میڈیا پر ہراساں کیے جانے کا معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سامنے اٹھا دیا گیا ہے۔ ادارے کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق آزاد ڈیجیٹل کے ڈیسک انچارج عدیل عمر نے سی ای او کی طرف سے ضیاء الرحمن، راشد سومرو، ناصر سومرو اور مفتی اویس کے خلاف باضابطہ شکایت جمع کرانے اور فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزاد ڈیجیٹل کے مختلف تحقیقاتی پروگرامز اور رپورٹس نشر ہونے کے بعد ادارے کے سربراہ اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ شکایت گزار کے مطابق اس سلسلے میں بعض افراد نے براہِ راست دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا، جبکہ مختلف فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے بھی مبینہ طور پر اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز پوسٹس اور تبصرے کیے گئے۔
فراہم کردہ شکایت کی تفصیلات میں راشد سومرو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ اسی طرح ضیاء الرحمن، ناصر سومرو اور مفتی اویس کے نام بھی مبینہ دھمکیوں اور ہراسانی سے متعلق درخواست میں شامل کیے گئے ہیں۔شکایت گزار نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام نامزد افراد کے مبینہ کردار، دھمکیوں کی نوعیت اور کسی ممکنہ باہمی رابطے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، تاکہ شواہد کی روشنی میں ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔اس معاملے کے پس منظر میں آزاد اردو کی 3 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ بھی سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں مبینہ بے نامی جائیداد، غیر قانونی تجاوزات اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے 26 سوالات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹنگ کے بعد آزاد ڈیجیٹل کو جانی و مالی نقصان کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔مذکورہ رپورٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما راشد سومرو پر مبینہ دھمکیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم جائیداد، تجاوزات اور دھمکیوں سے متعلق ان دعووں کی آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
شکایت کی تفصیلات کے مطابق مبینہ دھمکی آمیز سرگرمیوں سے منسلک چار فیس بک پروفائلز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ درخواست میں متعلقہ پوسٹس، تبصروں کے اسکرین شاٹس اور ویب لنکس بطور شواہد منسلک کرنے کا بھی بتایا گیا ہے۔این سی سی آئی اے سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ اکاؤنٹس کے حقیقی مالکان اور آپریٹرز کی شناخت کے لیے ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات کی جائیں اور یہ معلوم کیا جائے کہ دھمکی آمیز مواد کن افراد نے شائع کیا اور آیا اس سرگرمی میں کوئی منظم رابطہ موجود تھا۔شکایت میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت، دستیاب الیکٹرانک ریکارڈ کے تحفظ اور شواہد کے قانونی جائزے کے بعد متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔آزاد ڈیجیٹل کی جانب سے معاملے کو انتہائی سنگین اور ہنگامی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صحافتی سرگرمیوں کے جواب میں کسی صحافی، میڈیا ادارے کے سربراہ یا اس کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر دھمکانا نہ صرف آزادیٔ صحافت کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ سے متعلق بھی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔شکایت گزار نے این سی سی آئی اے سمیت متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سی ای او اور ان کے اہلِ خانہ کو لاحق مبینہ خطرات کا فوری جائزہ لیا جائے اور ضرورت کے مطابق مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔۔آزاد ڈیجیٹل کی درخواست میں بھی اسی بنیاد پر فوری تحقیقات، مبینہ ذمہ داروں کی شناخت، متاثرہ افراد کے تحفظ اور قانون کے مطابق کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
اس معاملے میں حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ نامزد افراد کے خلاف عائد کردہ الزامات فی الحال شکایت گزار کے دعوے ہیں اور انہیں ثابت شدہ حقائق قرار نہیں دیا جا سکتا۔دستیاب معلومات میں این سی سی آئی اے کی جانب سے اس مخصوص شکایت پر تحقیقات شروع کیے جانے، مقدمہ درج ہونے یا کسی شخص کے خلاف کارروائی کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح شکایت میں نامزد افراد کا اس معاملے پر باضابطہ مؤقف بھی دستیاب نہیں ہوسکا۔اس صورت حال میں ضروری ہے کہ متعلقہ ادارہ شکایت کا قانون کے مطابق جائزہ لے، ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق کرے اور تمام فریقوں کے قانونی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے۔
48