پریس کلب پر مبینہ پولیس چھاپہ، صحافیوں کا پولیس سرگرمیوں اور خبروں کے بائیکاٹ کا اعلان 45

پریس کلب پر مبینہ پولیس چھاپہ، صحافیوں کا پولیس سرگرمیوں اور خبروں کے بائیکاٹ کا اعلان

ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں واقع ڈسٹرکٹ پریس کلب پر مبینہ پولیس چھاپے کے خلاف صحافی برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کی سرگرمیوں اور پولیس سے متعلق خبروں کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے۔ صحافیوں نے واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 25 اکتوبر کی شام پولیس کی وردیوں میں ملبوس نقاب پوش مسلح افراد مبینہ طور پر اجازت لیے بغیر ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر کی عمارت میں داخل ہوئے اور مختلف کمروں کی تلاشی لی۔ صحافیوں کے مطابق اس واقعے سے پریس کلب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ صحافتی ادارے کی خودمختاری اور سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے۔ واقعے کے بعد 26 اکتوبر کو ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل کے صدر امان علی شنواری کی زیر صدارت ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پریس کلب کے اراکین اور فری لانس صحافیوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں مبینہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے تشویش ناک قرار دیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے مؤقف اختیار کیا کہ پریس کلب ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے، جہاں صحافیوں کو بلاخوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے کا حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی صحافتی ادارے میں مسلح افراد کا غیر مجاز داخلہ اور مبینہ طور پر تلاشی لینا صحافی برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔صحافیوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ملوث افراد کی شناخت کی جائے اور ذمہ داری ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جب تک واقعے کی جامع آزادانہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کا آغاز نہیں ہوتا، اس وقت تک لنڈی کوتل پولیس کی سرگرمیوں، تقریبات اور پولیس سے متعلق خبروں کی کوریج کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ اجلاس کے شرکا نے جمرود پریس کلب، باڑہ پریس کلب، مختلف صحافتی تنظیموں، سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے اظہارِ یکجہتی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔صحافیوں نے ضلع خیبر سمیت قبائلی علاقوں میں میڈیا کارکنوں کو درپیش سیکیورٹی خدشات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت، متعلقہ اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کسی دباؤ، دھمکی یا خوف کے بغیر عوام تک درست معلومات پہنچا سکیں۔دوسری جانب اس واقعے کی حقیقت کے حوالے سے متضاد اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ مقامی خبر رساں ادارے آزاد اردو نے 25 اکتوبر کو شائع کردہ اپنی فیکٹ چیک رپورٹ میں مبینہ چھاپے کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ تاہم دستیاب رپورٹس میں کسی نامزد پولیس ترجمان کی جانب سے باضابطہ تردید یا واقعے میں داخل ہونے والے افراد کی شناخت کی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں