وکلاء برادری کے بعد ایچ آرسی پی اور مزدور تنظیموں کا بھی صحافیوں کی ملک گیر احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان۔۔۔ 16

وکلاء برادری کے بعد ایچ آرسی پی اور مزدور تنظیموں کا بھی صحافیوں کی ملک گیر احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان۔۔۔

وکلاء برادری کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور ٹریڈ یونینز کنفیڈریشن آف پاکستان (TUCP) نے بھی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی ملک گیر احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے میڈیا کی آزادی، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی بحالی کی جدوجہد میں ماضی کی طرح پی ایف یو جے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ ٹریڈ یونینز کنفیڈریشن آف پاکستان نے 3 نومبر کو یومِ سیاہ اور 10 نومبر کو کراچی پریس کلب پر احتجاجی کیمپ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ہے۔
پی ایف یو جے کی ملک گیر کال پر کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ) اور آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن (APNEC) کے زیرِ اہتمام 3 نومبر کو یومِ سیاہ منایا جائے گا، جبکہ 10 نومبر بروز منگل شام 4 بجے کراچی پریس کلب پر 24 گھنٹے کا احتجاجی کیمپ شروع ہوگا، جو 11 نومبر بروز بدھ شام 4 بجے اختتام پذیر ہوگا۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اپنی ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز 3 نومبر کے سیاہ دن سے کر رہی ہے۔ 3 نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین معطل کیا اور آزاد میڈیا و عدلیہ پر پابندیاں عائد کیں۔ اس وقت بھی پی ایف یو جے نے آمریت کے خلاف احتجاجی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
اس سال بھی 3 نومبر کو ملک بھر کے پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے، جن میں مزدور تنظیموں، وکلاء، سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور صحافتی برادری سے وابستہ افراد کی بھرپور شرکت کا یقین دلایا ہے کراچی پریس کلب پر 10 نومبر کو شروع ہونے والا احتجاجی کیمپ میڈیا ورکرز کے حقوق، آزادیٔ صحافت پر قدغنوں، پیکا جیسے قوانین کے خاتمے اور بنیادی انسانی، آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی کے مطالبات کے لیے منعقد کیا جائے گا۔
پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکریٹری جنرل ارشد انصاری کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ تحریک کراچی، کوئٹہ، حیدرآباد، سکھر، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ، پشاور اور ایبٹ آباد سمیت مختلف شہروں سے ہوتی ہوئی اسلام آباد پہنچے گی، جہاں فیصلہ کن دھرنا دیا جائے گا۔ اس احتجاج میں ملک بھر سے میڈیا ورکرز، مزدور، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کریں گے۔
تحریک کے اہم مطالبات میں میڈیا مالکان کی جانب سے جبری برطرفیوں کا خاتمہ، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، میڈیا بلیک آؤٹ کے خلاف اقدامات، پیکا کے تحت آزادیٔ اظہار پر پابندیوں کا خاتمہ، صحافیوں کے خلاف مبینہ جھوٹے مقدمات اور ہراسانی کی روک تھام، اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے مبینہ غیر ضروری نوٹسز کا سدباب شامل ہیں۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس اور ایپنک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آزادیٔ صحافت، میڈیا ورکرز کے حقوق اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کو کامیاب بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں