پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے پبلک نیوز کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے دعوے میں اہم قانونی کامیابی حاصل کرلی۔ ہتکِ عزت ٹربیونل نے پبلک نیوز کے اینکر سلمان حیدر، رپورٹر انور سمرا اور چینل کی انتظامیہ کو فی کس 50،50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا، جس کے نتیجے میں چیف سیکرٹری کے حق میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کی ڈگری جاری ہوئی۔یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب پبلک نیوز پر چیف سیکرٹری پنجاب کی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش اور لینڈ اسکیپنگ سے متعلق ایک رپورٹ نشر کی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش پر تقریباً 22 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں چیف سیکرٹری پنجاب کی سرکاری رہائش گاہ 9-Egerton Road لاہور کا حوالہ دیا گیا تھا۔ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے مذکورہ خبر کو غلط، بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے اپنی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان پر قانونی کارروائی شروع کی۔
عدالتی کارروائی کے نتیجے میں ٹربیونل نے پبلک نیوز کے اینکر سلمان حیدر، رپورٹر انور سمرا اور چینل کی انتظامیہ کو الگ الگ 50 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا، یوں چیف سیکرٹری کے حق میں مجموعی مالی ڈگری ڈیڑھ کروڑ روپے بنتی ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق معاملہ صرف ہتکِ عزت کے دعوے تک محدود نہیں رہا بلکہ چیف سیکرٹری کی جانب سے اس رپورٹ کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ سلمان حیدر، انور سمرا اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی کو مبینہ طور پر نوٹسز بھی جاری ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بعد ازاں انور سمرا اور ارشاد بھٹی کی جانب سے تحریری اور غیر مشروط معذرت بھی سامنے آئی، جبکہ پبلک نیوز انتظامیہ نے بھی معافی طلب کی۔چیف سیکرٹری کی جانب سے دعویٰ پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت قائم ٹربیونل کے سامنے دائر کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت ہتکِ عزت کے دعووں کی سماعت کے لیے خصوصی ٹربیونلز کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق ہتکِ عزت کے معاملات میں عمومی، خصوصی اور تعزیری ہرجانے کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔
38