پشاور ہائی کورٹ نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا کو اخبارات کے طویل عرصے سے واجب الادا بقایاجات کی پہلی قسط فوری جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ پہلی قسط کی مالیت تقریبا 40 کروڑ روپے ہے۔ سی پی این ای نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔عدالت نے محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ اخبارات کو واجب الادا بقایاجات کی پہلی قسط کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور ادائیگی مکمل ہونے کے بعد اس حوالے سے تعمیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔عدالت نے بقایاجات کی دوسری قسط کے اجرا کے لیے بھی متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے محکمہ خزانہ کو ریکنسلی ایشن کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے اور ضروری کارروائی کے بعد متعلقہ ریکارڈ محکمہ اطلاعات کو بھجوانے کی ہدایت کی، تاکہ دوسری قسط کی ادائیگی کا عمل بھی بروقت مکمل کیا جا سکے۔سی پی این ای نے کہا ہے کہ طویل عرصے سے واجب الادا رقوم کی ادائیگی سے اخباری صنعت کو درپیش مالی مشکلات میں کمی آئے گی اور بالخصوص علاقائی اخبارات کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں جاری رکھنے میں سہولت ملے گی۔سی پی این ای کے عہدیداران اور علاقائی اخبارات کے ایڈیٹرز نے کہا کہ بقایاجات کی ادائیگی سے نہ صرف علاقائی اخبارات کے مالی مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ورکنگ جرنلسٹس کے حالاتِ کار میں بھی بہتری آئے گی۔ اس سلسلے میں خیبر یونین آف جرنلسٹس سے بھی مشاورت کی جائے گی۔ سی پی این ای نے امید ظاہر کی کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے پہلی قسط کی ادائیگی بلا تاخیر مکمل کی جائے گی، جبکہ دوسری قسط کے لیے ریکنسلی ایشن اور دیگر ضروری کارروائی بھی جلد مکمل کرکے اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔یاد رہے کہ سی پی این ای نے اخبارات کے بقایاجات کی وصولی کے لیے 2023 میں پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سی پی این ای کی جانب سے کیس کی پیروی معروف قانون دان شاہد نسیم ایڈووکیٹ اور احسن مسعود ایڈووکیٹ نے کی۔ وکلا نے عدالت کے روبرو اخبارات کو طویل عرصے سے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے باعث درپیش مالی مشکلات سے بھی آگاہ کیا۔
28
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل