پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے اسلام آباد کے سینئر صحافی احتشام عباسی پر بہیمانہ تشدد کی شدید مزمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سینئر صحافی پر تشدد میں ملوث افراد کو گرفتار کر کےقرار واقعی سزا دی جائے۔ پی ایف یو جے کے صدر رانا محمد عظیم، سیکریٹری جنرل شکیل احمد، سیکریٹری فنانس شہر بانو، ارکان فیڈرل ایگزیکٹو کونسل، کے یو جے کے صدر اعجاز احمد، جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی اور اراکین مجلس عاملہ نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ ورکنگ جرنلسٹس کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث صحافی برادری میں بے چینی پھیل رہی ہے۔واضح رہے کہ صحافی احتشام علی عباسی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اسلام آباد میں ایف آئی اے کے زونل دفتر کے باہر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ طبی امداد کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) پہنچنے پر بھی ان پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔احتشام علی عباسی کے مطابق وہ اسلام آباد کے میلوڈی مارکیٹ میں واقع ایف آئی اے کے زونل دفتر کے باہر موجود تھے جب چند افراد نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کیا۔ حملے میں انہیں چہرے پر گہری چوٹیں آئیں۔ بعد ازاں وہ علاج کے لیے پمز اسپتال پہنچے جہاں، ان کے بقول، اسپتال کے عملے نے ابتدائی طور پر انہیں طبی امداد فراہم کرنے سے انکار کیا۔صحافی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو اور تصاویر میں ان کے چہرے پر خون اور زخم جبکہ بعد کی ویڈیو میں پٹی بندھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ احتشام علی عباسی نے الزام عائد کیا کہ پمز میں موجودگی کے دوران بھی انہیں دوبارہ حملے کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے بعض پولیس اہلکاروں پر مبینہ طور پر حملہ آوروں کے ساتھ ملی بھگت کا الزام بھی عائد کیا ہے، تاہم انہوں نے کسی مخصوص پولیس افسر کا نام نہیں بتایا اور اس الزام کی مزید تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔احتشام علی عباسی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان کی صحافتی سرگرمیوں سے متعلق نہیں تھا۔ انہوں نے مبینہ حملہ آور کو پراپرٹی ڈیلر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔صحافی کے مطابق وہ اب معاملے کو عدالت میں لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے انصاف کے حصول کے لیے مقدمہ لڑیں گے۔
31
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل