پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا ہے، جس کے بعد میڈیا انڈسٹری میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اس بل کا مقصد موجودہ میڈیا قوانین کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور ریگولیٹری نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بل کے تحت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے وہ میڈیا اداروں کی نگرانی مزید سختی سے کر سکے گی۔نئے قانون کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں جرمانوں میں اضافہ، لائسنس کی معطلی یا منسوخی جیسے اقدامات کیے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ پہلی بار ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب ٹی وی اور آن لائن اسٹریمنگ سروسز کو بھی ریگولیٹری دائرہ کار میں لانے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔بل میں مواد کی نگرانی سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں، جن کے تحت قومی سلامتی، اخلاقیات اور عوامی مفاد کے نام پر نشر کیے جانے والے مواد کی جانچ پڑتال کو مزید سخت بنایا جائے گا۔ حکومتی مؤقف ہے کہ یہ اقدامات فیک نیوز اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے تدارک کے لیے ضروری ہیں۔دوسری جانب صحافتی تنظیموں اور ماہرین نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی ترامیم کے باعث اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے اور میڈیا پر حکومتی کنٹرول میں اضافہ ہو سکتا ہے۔بل میں عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو بھی بہتر بنانے کی شقیں شامل کی گئی ہیں، جس کے تحت ناظرین کو میڈیا مواد کے خلاف شکایات درج کرانے اور اپیل کا مؤثر حق حاصل ہوگا۔تجزیہ کاروں کے مطابق پیمرا ترمیمی بل 2026 پاکستان کے میڈیا منظرنامے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ قانون پر عملدرآمد کس حد تک شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے کیا جاتا ہے۔
