حکمرانوں کے نام کھلا خط۔۔
حکومتی بے حسی اور اخبار فروش موجودہ حکومت کی طرف سے مسلسل ملک بھر کے اخبار فروش کو نظر انداز کرنا مزدور دشمنی کی واضح دلیل ہے کرونا کی پہلی لہر سے لے کر اب تک کسی بھی قسم کی امداد نہ کرنا حکومتی بے حسی کی واضح دلیل ہے ڈاکٹر فردوس عاشق شبلی فراز فیاض الحسن چوہان اسد عمر شیخ رشید احمد شیخ راشد شفیق اور لا تعداد دیگر قائدین سینکڑوں دفعہ دروازہ کھٹکھٹایا ملاقاتیں کیں درخواستیں دی لسٹ مہیا کی لاکھوں روپے فوٹو اسٹیٹ وغیرہ پر خرچ کروائے راولپنڈی سے لاہور اور پنڈی سے اسلام آباد ایوان اقتدار کے دروازے پر اخبار فروش کے لیے ٹھوکریں کھائیں لیکن ان بے حس حکمرانوں نے اخبار فروش کے لیے کوئی درد محسوس نہ کیا اس مشکل کی گھڑی میں 500 سو ماسک ہمارے حوالے کیے گئے اور تمام قومی اخبارات میں خبرے لگوائی گئی کے اخبار فروشوں کو ما سک دے رہے ہیں کیا یہ لوگ روز اخبار میں نہیں چھپتے کیا ہم ان کے گھر کاگھراؤ نہیں کر سکتے کیا اخبار فروش اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نہیں نکل سکتے کیا ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہر میں اخبار فروش یونین احتجاج نہیں کر سکتی کیا ہمیں خاموشی کے ساتھ حکومت کی مزدور دشمن پالیسی کو برداشت کرنا چاہیے یا کوئی سوال اٹھانا چاہیے ہمارے پاس کوئی راستہ ہے کیا مالکان اخبارات یا اے پی این ایس یا مالکان اخبارات کی کسی اور تنظیم نے ہمارے ساتھ تعاون کیا یا کوئی ہمدردی کی یا اپنے ذاتی بجٹ سے کسی شہر میں کسی اخبار فروش کی کوئی مدد کی گئی نہیں جناب یہ بے حس لوگوں کی انڈسٹری ہے وقت پر ہمیں ریڑ کی ہڈی اور پتہ نہیں کیا کیا کہا جاتا ہے لیکن مشکل کی گھڑی میں کسی بھی دوست نے ہمارا ساتھ نہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ مزدور طاقت کے ذریعے مسائل حل کروا سکتا ہے ہم نے کبھی بھیج توڑ پوڑ سڑکیں بلاک گیٹ بند اخبارات کے دفتروں کا گراؤ وزراء کے گھروں کے باہر احتجاج کی سیاست نہیں کی یہی ہماری کمزوری ہے جسے اب دور کرنا پڑے گا اے پتھر کے بنے حکمرانوں کیا تم نے مرنا نہیں ہے کیا تمہارا حساب کتاب نہیں ہوگا کیا تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ مزدور مر رہا تھا کیا تمہیں اس کا خوف نہیں ہے کیا تمہیں موت کا کوئی ڈر نہیں ہے یا تم آخرت پر یقین نہیں رکھتے کیا یہ تمھاری تبدیلی تھی اخبار فروش تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح زندگی کی گاڑی چلا لے گا لیکن تمہارا کیا ہوگا تم جب کسی چوک سے گزرو گے اخبار فروش تمہیں چور اور ڈاکو ضرو رکہے گا خدا کا خوف کرو اور اس وقت سے ڈرو جب تم کہیں بازار میں کسی تقریب میں موجود ہو گئے تو مزدور آواز بلند کرے گا اور تمہیں بھاگنا پڑے گا تم کہیں کوئی جلسہ نہیں کر سکو گے اپنے لئے ووٹ نہیں مانگ سکوگے تمہیں کہیں بھی برداشت نہیں کیا جائے گا کیا تم سیاست سے توبہ کر لو گے کیا تمہیں جھنڈے والی گاڑی اور سائرن کا چسکا ختم ہو جائے گا لگتا ہے یہ تمہارا آخری اقتدار ہے اور اگر تم ساری مصیبتوں سے بچنا چاہتے ہو تو صبح تین بجے اٹھنے والے ان سفید پوشوں کے بارے میں سوچو ورنہ انجام برا ہوگا۔۔(منجانب :- عقیل احمد عباسی جنرل سیکریٹری اخبار فروش یونین راولپنڈی)

