shaheed sashafi ki famaily ko insaaf dia jae

صحافی قتل کیس، پولیس کی قاتلوں کو سیکورٹی۔۔

شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی قتل کیس میں پولیس کے جانبدارانہ رویے کے خلاف متاثرہ خاندان کے افراد نے سریاب پولیس تھانے کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے ملوث خاندان کے افراد کو سیکورٹی میں ان کے گھر لا کر کوشش کی کہ لوگ مشتعل ہو جائیں اور پولیس مشتعل لوگوں پر فائرنگ کرکے ان کا قتل عام کر ے۔ دنیا میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ پولیس متاثرہ خاندان کو سیکورٹی فراہم کرنے کی بجائے قاتلوں کو سیکورٹی فراہم کررہی ہے۔ احتجاج کا سنتے ہی صحافی اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سریاب پولیس تھانے کے باہر پہنچ گئے۔ اس موقع پر شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی کی والدہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کے جانبدارنہ رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جمعہ کے روز اس کے باجود کہ ملزمان کا گھر ہمارے گھر کے قریب ہی واقع ہے پولیس نے منظم سازش کے تحت واحد رئیسانی کے قتل میں ملوث خاندان کے افراد کو پولیس کی سیکورٹی میں ان کے گھر لاکر کوشش کی کہ وہاں لوگ مشتعل ہو جائیں اور پولیس مشتعل لوگوں پر فائرنگ کرکے ان کا قتل عام کر ے، انہوں نے جرائم پیشہ خاندان کو سیکورٹی دینے والے اہلکاروں کی فوری معطلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تھانے کے عملہ نے ہمیں بتایاہے کہ ایس ایس پی سریاب کی ہدایت پر انہیں سیکورٹی فراہم کی گئی ہے، دنیا میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے کہ پولیس متاثرہ خاندان کو سیکورٹی فراہم کرنے کی بجائے قاتلوں اور ان کے سہولت کاروں کو سیکورٹی فراہم کررہی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ سریاب پولیس واضح کرے کہ کس کے دباؤ میں آکر ایک قبائلی معاشرے میں انہوں نے یہ سنگین قدم اٹھایا انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے دن ہی سریاب پولیس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ واحد رئیسانی قتل کیس میں سریاب پولیس کو بھی شامل تفتیش کیا جائے تاہم ہماری نہیں سنی جارہی ہے۔ انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان طاہر رائے ، ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ اظہر اکرم سے قتل کیس کی تحقیقات میں غیر معمولی سست روی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی نے متعدد مرتبہ بذریعہ پریس کانفرنسزیہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ملوث ملزمان کوان کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ مگر پولیس کے آج کے اس عمل نے ہماری تشویش میں اضافہ کیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ متاثرہ خاندان سینئر صحافی رہنماؤں اور رئیسانی قبیلے کے معتبرین کی مشاورت سے آئندہ ایک دو روز میں بذریعہ پریس کانفرنس اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کااعلان کرے گا متاثرہ خاندان پولیس کے جانبدارانہ رویے کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کرنے ، جوڈیشل تحقیقات کے لئے وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات اور مفرور ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ قائم کرنے سمیت انصاف کے حصول تک احتجاج کے تمام جمہوری طریقے اپنائے گا۔

How to write on Imranjunior website
How to write on Imranjunior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں