24 news ka peshawar bureau band kardia gya

24 نیوزکا پشاور بیورو بند کردیاگیا۔۔

ٹوئنٹی فور نیوز نے پشاور میں اپنا بیورو بند کرنے کا اعلان کردیااور سوائے دو افراد کے بیوروچیف سمیت تمام عملے کو فارغ کردیاہے، یہ عملہ ایک ماہ کے نوٹس پیریڈ پر اٹھارہ جولائی تک کام کرے گا جس کے بعد ادارے میں ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔۔پپو کے مطابق فائر ہونے والوں میں بیوروچیف، ایک اسائنمنٹ ایڈیٹر، ایک رپورٹر، ایک کیمرہ مین، دو ڈرائیور،ایک ڈی ایس این جی ٹیکنیشن سمیت غیرصحافتی عملہ بھی شامل ہے، صرف ایک رپورٹر اور کیمرہ مین کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ،بیورو کو دفتر بندکرکے ایک ڈی ایس این جی اور ایک سوزوکی کیری ڈبہ لاہور بھیجے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔۔پپو کے مطابق رہ جانے والے رپورٹر کو موٹرسائکل پر صوبائی دارالحکومت کی رپورٹنگ گھر سے کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔۔ دریں اثنا خیبر یونین آ ف جرنلسٹس نے 24نیوز کی جانب سے پشاور بیورو بند کرنے اور کارکن صحافیوں کو فارغ کرنے کے حکم نامے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت روز گار دینے کے نعرے لگاتے نہیں تھکتی لیکن دوسری جانب بےروگاری کے طوفان میں سب سے زیادہ صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے حکومت کارکن صحافیوں کی جبری برطرفی کےخلاف ہے تو فوری طور پر میڈیا مالکان کی جانب سے بنایا گئے مصنوعی بحران کو بے نقاب کرے کیونکہ میڈیا مالکان نے اربوں روپے کے اثاثے بنائے ہوئے ہیں جس کا کوئی احتساب نہیں کیا جارہا ہے ،خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر فدا خٹک اور جنرل سیکرٹری محمد نعیم نے کہاکہ پشاور میں مختلف میڈیا ہاوسز کی جانب سے 100سے زائد کارکن صحافیوں کو جبری طور پر بر طرف کیا گیا ہے ، موجودہ حکومت کے آنے کے بعد میڈیا مالکان نے مصنوعی بحران کے نعرے لگا کر بڑی تعداد میں صحافیوں کو نشانہ بنایا اگر حکومت اس بحران کی زمے دار نہیں تو میڈیا مالکان کی اس سازش کو بے نقاب کرے اور ان کے اربو روپوں کا احتساب کرے ۔خیبر یونین آف جرنلسٹس نے واضح کیا کہ جن اداروں سے کارکن صحافیوں کو نکالا گیا ہے ان پر جب بھی برا وقت آئے تو صوبے کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس اور صحافی مالکان کے ساتھ نہیں ہونگے ،چینلوں پر جب بھی براوقت آیا تو کارکن صحافیوں نے ہی اس کی بقا ءکی جنگ لڑی لیکن اب صورتحال ویسی نہیں ہوگی۔۔

How to Write for Imran Junior website
How to Write for Imran Junior website
Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں