فرحان ملک کے خلاف سائبر کیس کا خاتمہ۔۔

ہم غدار نہیں ہیں

(یہ تحریر رفتار ڈیجیٹل کے بانی اور سما ٹی وی کے سابق ڈائریکٹر نیوز فرحان ملک صاحب کی ہے۔۔ جسے احباب سے فرحان صاحب کے شکریہ کے ساتھ شیئر کیاجارہا ہے)۔۔

آٹھ  مہینوں کے  انتہائی  تکلیف دہ ٹرائل کے بعد بالاخر جج گلریز میمن کی عدالت نے این سی سی آئی اے کے کیس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ہم سب جانتے ہیں کہ ایسے کیسز میں پراسیس ہی پنشمنٹ ہوتا ہے۔۔ان کا اصل مقصد ناپسندیدہ افراد کو ڈرانا اور ان جیسے دوسرے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہوتا ہے۔۔لیکن پھر بھی الحمدللہ اس دوران اتنے زیادہ لوگوں نے محبت اور ساتھ دیا جن کا نام لینا ناممکن ہے۔۔ ۔۔ ۔ ۔ اللہ آپ کے نام اور کام دونوں جانتا ہے میں ہمیشہ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔۔۔لیکن اپنے وکیل معز جعفری کا نام نہ لیا تو بہت بڑی زیادتی ہوگی۔۔۔۔تھینک یو برادر!

 آخری پیشی والے دن وہی این سی سی آئی اے ملازم جو  بیس  مارچ کو مجھے ہتھکڑیاں لگاکر کورٹ لایا تھا جج گلریز میمن نے اسے توہین عدالت کے جرم میں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔اسے ہتھکڑیوں میں جکڑا دیکھ کر مجھے لگا۔۔۔ہاں انصاف ہوگیا۔۔۔۔آج ظالم جیل میں ہے اور مظلوم باعزت بری ہورہا ہے۔۔لیکن پھر معز جعفری نے ہمیشہ کی طرح میرا ببل برسٹ کردیا ۔۔۔فرحان صاحب یہ بے چارے تو مہرے ہیں۔۔انصاف تب ہوگا جب ہماری عدالتیں اس ظالمانہ نظام کے طاقت ور ترین لوگوں کو قانون کی گرفت میں لائیں گی۔۔۔(He is right)

اس عرصے میں بہت سے لوگوں نے کہا فرحان بھائی باہر چلے جائیں، حد تو یہ ہوئی کے ایک افسر نے بھی مجھے پاکستان میں رکنے کی غلطی کا احساس دلایا۔۔۔۔لیکن میں وہی بات دہراوں گا جو انکوائری شروع ہونے والے دن کہی تھی۔۔۔۔۔میرا خاندان اپنا گھربار، رشتے دار اور آباو اجداد کی قبریں چھوڑ کر پاکستان آیا تھا۔۔۔۔کچھ تو وہ تھے جو پہلے ہندوستان چھوڑ کر مشرقی پاکستان آئے اور پھر وہاں سے ایک بار پھر بے گھر ہوکر یہاں پہنچے۔۔۔۔انہوں نے عزت اور آزادی کی زندگی کے لیے جو قربانیاں دی تھیں اس کے مقابلے میں یہ کیسز اور یہ تکلیف کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔اگر ہم سب صرف اپنے بیوی بچوں کے بارے میں سوچتے اور کام کرتے رہے تو پھر پاکستان کیسے ٹھیک ہوگا؟

میں کوشش کرتا ہوں کہ اللہ کی کتاب سے گائڈنس لیتا رہوں

جب مجھے گرفتار کیا تھا تو میرے دماغ میں سورہ توبہ کی یہ آیت آئی تھی کہ

ہم پر کوئی مصیبت نہیں آسکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا مولا ہے

جب کیس ختم ہوا تو ذہن میں اللہ کے یہ الفاظ گونجے

ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

مگر میں پھر سورہ بلد یاد آگئی کہ

بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے۔

تو بھائیوں سکون تو صرف قبر میں ہوگا انشاءاللہ۔۔۔۔۔اور جہاں تک اس دنیا کی بات ہے تو یہاں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھربھی پڑچکے ہیں اور حسین کا سربھی کٹ چکا ہے۔۔۔کیا ہم اور ہماری اوقات۔۔۔۔بس ایک آخری چیز۔۔۔۔۔ڈریں صرف اللہ سے اور کسی ایسے نعرے اور انسان سے دور رہیں جو ہمیں تقسیم کرتا ہو۔۔۔۔۔برٹش راج کے عروج کے وقت ہندوستان کی آبادی کوئی تیس کروڑ کے لگ بھگ تھی لیکن ان پر صرف تیس ہزار گورے راج کرتے تھے۔۔۔اب یہ مت مجھ سے مت پوچھیے گا کیسے؟

رفتار بڑھنے دو – فرحان ملک (ایڈیٹر اینڈ فاونڈر)

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں