phase two ka ifteta marium nawaz khud karen

ہیلتھ کارڈ اور متنازع شرائط

تحریر : صلاح الدین انقلابی

میڈیا کے اندرونی حالات سے یکسر لاعلم حکومت پنجاب کی کچھ ”سقراط و بقراط“ ٹائپ شخصیات کی جانب سے ہیلتھ کارڈ بنوانے کے لۓ مرتب کۓ گۓ نۓ قوائد و ضوابط متنازعہ بھی ہیں اور نامناسب بھی۔

سب جانتے ہیں کہ میڈیا بحران کی وجہ سے جہاں کئ ادارے بند ہو چکے ہیں، وہیں پر سیکڑوں صحافی نوکری سے نکال دیئے گۓ ہیں یا ادارہ بند ہونے سے بے روزگار ہو چکے ہیں۔ کئ افراد کسی بیماری یا حادثے کے باعث بھی بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ ہیلتھ کارڈ بنوانے کے لۓ ڈی جی پی آر کارڈ کا ہونا اور موجودہ صحافتی ادارے کی جانب سے تصدیق کرنے کی شرائط بھی رکھی گئ ہیں جبکہ بہت سے صحافیوں نے ڈی جی پی آر کارڈ نہیں بنوا رکھے اور موجودہ حالات میں اس کے بننے میں کئ رکاوٹیں حائل ہیں۔ اسی طرح بہت سے صحافی جو بے روزگار ہو چکے ہیں اور کئ لائف ممبر بننے کے بعد اور عمر کے آخری دور میں اب صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود ہو چکے ہیں ان شرائط کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ مئوخر الذکر میں سے بیشتر صحافی اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شعبہ صحافت پر وار چکے ہیں اور اب آرام کرنے کی عمر میں داخل ہوچکے۔ دیکھا جاۓ تو ہیلتھ کارڈ کی سب سے زیادہ ضرورت انہی افراد کو ہے۔

کلب باڈی کا فرض ہے کہ ہیلتھ کارڈ کے لۓ جاری متنازعہ قوائد و ضوابط میں تبدیلی کرواۓ اور اصولی طور پر لاہور پریس کلب کے تمام ممبرز کیلئے  ہیلتھ کارڈ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔(صلاح الدین انقلابی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں