deputy director fia cybercrime talb

گاڑی غائب ، سابق خاتون اینکر کی ایف آئی اے طلبی۔۔

سابق ٹی وی اینکر  کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد نے طلب کیا ہے تاکہ اس بات کی انکوائری کی جا سکے کہ پاکستان کے کیبنٹ ڈویژن کی گاڑی ٹرانسپورٹ پول سے کیسے لاپتہ ہوئی۔کیبنٹ ڈویژن کے ایک ایڈیشنل سیکریٹری نے جولائی 2025 میں، کرولا اٹلس، 1800 سی سی، ماڈل 2016 گاڑی  نمبر جی اے ڈی چار تین پانچ سابق خاتون اینکر کے حوالے کی ،  جنہیں اس وقت کسی نجی کنسلٹنٹ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے اس معاملے پر ایف آئی آر درج کر لی ہے، تاہم ایف آئی آر میں اس ایڈیشنل سیکریٹری کا نام شامل نہیں کیا گیا جس نے سرکاری گاڑی ایک نجی فرد کو دی۔ ایف آئی آر میں صرف ایک ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، جس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ ایڈیشنل سیکریٹری نے تفتیشی افسر کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے نچلے درجے کے ملازم کو قربانی کا بکرا بنایا ہے۔دستاویزات میں درج ایڈریس کے مطابق خاتون اینکر ڈپلومیٹک انکلیو کے ایک اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر ہے، جب کہ گاڑی دینے والے  مذکورہ مہربان ایڈیشنل سیکریٹری کسی دوسرے محکمے سے ڈیپوٹیشن پر کیبنٹ ڈویژن آئے تھے اور اب واپس اپنے محکمے میں تبادلہ کر دیے گئے ہیں۔اے بی این ٹی وی کے شمس کیانی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ  سابق خاتون اینکر ماضی میں مختلف ٹی وی چینلز پر اینکر پرسن کے طور پر نظر آتی رہی ہیں اور اب انہیں ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر اور باہر اشرافیہ کی محفلوں میں دیکھا جا رہا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں کام کرنے والے بیشتر صحافی سابق خاتون اینکر کو  نہ تو صحافی کے طور پر جانتے ہیں اور نہ ہی اینکر پرسن کے طور پر۔ کام کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ  ایسے کئی  واقعات موجود ہیں جہاں سرکاری افسران مختلف طریقوں سے خواتین کو نوازتے ہیں اور انہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسی بہت سی خواتین خود کو صحافی یا اینکر پرسن ظاہر کرتی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں