کے پی میں پیکا ایکٹ کا کوئی کیس درج نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ گنڈاپور۔۔

وزیر اعلی خیبر پختونخوا علیٰ امین خان گنڈاپور نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے وفد سے ملاقات میں پنجاب آگہی بل اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پیکا ایکٹ کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوگی۔ سی پی این ای کے وفد قیادت سی پی این ای کے نو منتخب صدر کاظم خان کر رہے تھے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے آزادی صحافت پر سی پی این اے کے ازلی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای آزادی صحافت کی راہ میں آنیوالی ہر رکاوٹ کا مقابلہ کرے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی حکومتیں سیاسی مفاد کے لئے نہیں عوامی مفاد کے لئے فیصلہ کرتی ہیں جبکہ علی امین گنڈا پور نے پنجاب آگہی بل پر مزید کہا کہ اگر خلیفہ وقت سے سوال ہوسکتا ہے تو ہم سے کیوں نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آگہی بل کا اطلاق یکم جنوری سے کرنا واضح کرتا ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت پی ڈی ایم حکومت کا تسلسل ہے۔ ہم آزادی صحافت کا ہر فورم پر ساتھ دیں گے۔ وفد نے وزیر اعلیٰ کو آئندہ مالی سال کے لیے سرپلس بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی اور صوبائی حکومت کی مالی کارکردگی کو سراہا۔ ملاقات میں مقامی اخبارات کو درپیش مسائل، اشتہارات کی مد میں واجبات کی ادائیگی اور میڈیا انڈسٹری کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آزادی صحافت اور اخباری صنعت کی ترقی میں سی پی این ای کا کردار نہایت اہم ہے اور ان کی حکومت بانی چیئرمین کے وژن کے مطابق آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اشتہارات کی مد میں اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں بھی اخبارات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو صوبائی خزانے میں صرف 18 دن کی تنخواہوں کی ادائیگی کی گنجائش تھی، لیکن بہتر مالی نظم و ضبط اور موثر مانیٹرنگ کے ذریعے 250 ارب روپے کی اضافی آمدن پیدا کی گئی، جو سسٹم میں موجود ہونے کے باوجود ضائع ہو رہی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان ایک سیاسی قیدی ہیں اور ان کی رہائی کے لیے سیاسی تحریک جاری رکھی جائے گی، جس کے لیے ورکرز کو متحرک کیا جا رہا ہے اور مقامی سطح پر جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ عوامی مقبولیت حاصل کر چکا ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں