کیا کہتے ہیں جناب عزیز اللہ خان۔۔۔۔؟؟؟

تحریر: امجد عثمانی۔۔

پنجاب پولیس کے سابق ڈی ایس پی جناب عزیز اللہ خان”آگ بگولہ” ہیں کہ لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری نے ایک پولیس افسر کی بیٹی کے “ایک کروڑ تیس لاکھ”مالیت کے لہنگے کا ذکر کیوں کیا؟کوئی خان صاحب کو بتائے کہ عالی جاہ۔۔۔۔صحافی کا کام ہی خبر دینا ہے۔۔۔سوال اٹھانا ہے۔۔۔۔کون سا نجی معاملہ ؟؟کوئی ان کو یہ بھی بتائے کہ ہر”مسند نشین” جواب دہ ہے۔۔۔۔۔یہاں تک کہ اپنے کرتے کی لمبائی کا بھی جواب دہ۔۔۔۔اصولوں کا بھاشن دیتے وہ ریاست مدینہ میں امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے محاسبے کا ایمان افروز واقعہ کیوں بھول گئے۔۔۔۔؟شومئی قسمت کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حال یہ ہے کہ حاضر سروس وزیر دفاع جناب خواجہ آصف اس سے  بھی مہنگا انکشاف کر چکے۔۔.وہ 4 ارب کی سلامی کی دہائی دے رہے ہیں۔۔۔۔پھر بھی عزیز اللہ خان صاحب کہتے ہیں کہ کوئی صحافی سوال نہ کرے۔۔۔حضور کیوں نہ کرے؟ہاں احتساب کے باب میں صدر لاہور پریس کلب سمیت صحافی عہدیدار کو بھی استثنی نہیں اور یہ محاسبہ ہر سال ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔۔۔عزیز اللہ خان کبھی لاہور پریس کلب کا الیکشن دیکھیں ان پر صحیح معنوں میں جمہوریت کا مفہوم کھلے گا۔۔۔۔چشم فلک نے صدیوں پہلے ریاست مدینہ میں یہ نظارہ بھی دیکھا۔۔۔۔سیدنا عمر بن عبد العزیز کے دور میں ایک گورنر نے دو مختصر خطبے دیے جن کا ایک ایک لفظ اندھیرے میں جگنو ہے۔۔۔محمد بن عروة یمن کے گورنر بن کر شہر میں داخل ہوئے تو لوگ قطار اندر قظار استقبال کے لئے کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔لوگوں کا خیال تھا کہ نئے گورنر صاحب  لمبی چوڑی تقریر کریں گے لیکن  محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی ۔۔۔۔وہ جملہ تھا:”لوگو یہ میری سواری میری ملکیت ہے۔۔۔ اس سے زیادہ لیکر میں واپس پلٹا تو مجھے چور سمجھا جائے”محمد بن عروہ گورنری کے ماہ و سال پورے کرکے واپس چلے تو لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رہے تھے۔۔۔ اس دن بھی لوگوں کا جم غفیر موجود تھا اور امید تھی کہ گورنر صاحب لمبی تقریر کریں گے لیکن محمد بن عروہ نے ایک بار پھر ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی ۔۔۔۔وہ جملہ تھا:لوگو یہ میری سواری میری ملکیت تھی۔۔۔۔میں واپس جا رہا ہوں۔۔۔۔ میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔ !!یہ زیب داستان نہیں اور صدیوں پرانا قصہ بھی نہیں۔۔۔جماعت اسلامی کے سابق امیر جناب منور حسن کی بیٹی کی شادی ہوئی۔۔۔۔شادی میں ملک کی اہم ترین سیاسی شخصیات شریک ہوئیں۔۔۔۔ لاکھوں روپے سلامی اور سونے کے کئی سیٹ بطورِ تحفہ ملے۔۔۔۔ رخصتی سے پہلے منور حسن  دختر نیک اختر سے مخاطب ہوئے:بیٹی! اگر میں اس منصب پر نہ ہوتا تو یہ تحفے ہمیں کبھی نہ ملتے۔۔۔۔ یہ تحفے مجھے اور آپ کو نہیں۔۔۔امیر جماعت اسلامی کو ملے ہیں۔۔۔۔پھر جناب منور حسن نے  سبھی تحائف جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرادیے۔۔۔۔سوال ہے کہ ایک دینی سیاسی جماعت کے امیر جواب خود احتسابی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں تو سرکاری خزانے سے زندگی بتانے والے افسر جواب دہ کیوں نہیں۔۔۔؟؟؟کیا کہتے ہیں جناب عزیز اللہ خان صاحب؟؟؟؟(امجدعثمانی)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں