صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب نے خیبرپختونخوا سے ایک کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ کو صحافت کے شعبہ میں اعلی سول ایوارڈ دینے کو خیبرپختونخوا کے صحافیوں کی قربانیوں کامذاق قرار دیتے ہوئے اس نامزدگی پر شدید احتجاج اور اس کی بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔خیبریونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کی قیادت نے خیبرپختونخوا حکومت سے معاملہ اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض جنرل سیکرٹری پریس کلب طیب عثمان اعوان اور جنرل سیکرٹری خیبر یونین آف جرنلسٹس ارشاد علی اور دیگر عہدیداروں نے جمعہ کے روز اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر پشاور سے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے رہنماء، پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کوآرڈینیٹر اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ڈرائی پورٹ کمیٹی کے چیئرمین ضیاءالحق سرحدی کو صوبہ خیبرپختونخوا سے صحافت کے شعبہ میں اعلی سول اعزاز ستارہ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔پشاور کی صحافی برادری اس نامزدگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اس نامزدگی کے تمام مراحل میں شامل اداروں اور حکام کی مذمت کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر ضیاءالحق سرحدی صاحب کو ان کے اپنے شعبہ یعنی کاروبار یا کسٹم کلیئرنگ میں ان کی کسی خدمات کے اعتراف میں سول ایوارڈ کے لئے نامزد کیا جاتا تو صحافیوں کو اس نامزدگی پر کوئی اعتراض نہ ہوتا لیکن ایک ایسے شخص جس کا صحافت کے پیشے سے کوئی تعلق نہیں اور محض شوقیہ کسی سے کالم لکھوا کر اخبارات میں اپنے نام سے چھپواتا ہے کو صحافت کے شعبہ میں اعلی قومی اعزاز کے لئے نامزد کرنا میرٹ کی پامالی، اقربا پروری کی بدترین مثال اور صوبہ خیبرپختونخوا کے حساس خطہ میں ملک و قوم کے مفا کے لئے بیش بہا قربانیاں دینے والے صحافیوں کی حق تلفی ہے۔سرحدی صاحب کو جس بھونڈے انداز میں صحافت کے شعبہ میں اعلی سول اعزازات سے نوازا گیا ہے اس نے یوم آزادی کے موقع پر دیگر زعماء اور شخصیات کے اعزازات کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔خیبرپختونخوا کے صحافیوں کی ان نمائندہ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کے بائیکاٹ سمیت بھرپور مزاحمت کے تمام آپشنز پر عمل کیا جائے گا۔
