رپورٹ : ناصر جمال
پاکستان پر روز اول سے بیوروکریسی کی مضبوط گرِپ رہی ہے۔ماضی میں لوگ زیادہ مضبوط ، لائق اور با اختیار تھے یا آج کے آفیسرز اچھی پوسٹنگ زیادہ طاقت کے حصول اور حکمرانوں کی قرب کی خواہش میں اپنا اصل فن حکمرانی بھول گئے ہیں۔بیوروکریٹس کے ماضی میں اتنے سکینڈلز کبھی نہیں آئے جتنے آج ہر روز آرہے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ اج کے بیوروکریٹ رولز اور سکینڈلز کی پرواہ ہی نہیں کرتے۔وہ کون سی تھپکی ہے جو انہیں سب کچھ کر گزرنے پہ ہر وقت آمادہ رکھتی ہے۔ایک ایسی ہی خبر پیمرا کے حوالے سے بھی ہے۔جہاں پیمرا آرڈیننس کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔سرکار کے مفادات اور قومی خزانے کو بھی کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں ہے۔
شہروں قصبوں اور دیہاتوں میں کیبل کے بے ہنگم اور بدصورت تار ، جہاں ارکیٹیک ماحول اور خوبصورتی کو کھا رہے ہیں۔وہیں پر وہ کوئی بہترین تفریح ، انفارمیشن ،معاشرے کی تشکیل میں کوئی کردار بھی ادا بھی نہیں کر رہے۔ اسے بدلنا ایک خواب ہے۔ڈی ٹی ایچ اس راستے کا ایک اہم ترین سنگ میل ہے۔مگر ڈی ٹی ایچ ڈائریکٹ ٹو ہوم پروجیکٹ اج بھی ایک خواب ہی ہے۔ لائسنس دیے جانے کے باوجود بھی اس میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں۔ایک طرف لائسنس کے حصول میں لوگوں نے ہمالیہ کے ٹو اور نانگا پربت جیسی رکاوٹیں عبور کی ہیں۔بے بہا پیسہ لگایا توانائیاں صرف کیں۔دوسری جانب وہی لائسنس کسی پیارے اور لاڈلے کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جا رہا ہے۔سنگل درخواست دہندہ کی نہ کوئی توانائی صرف ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی پیسہ،پیمرا ہاتھ جوڑ کر کہہ رہی ہے حضور لائسنس حاضر ہے۔اپ سیکیورٹی کلیرنس کروا لیں اس کے بعد ہم آپ سے پیسے لے لیں گے۔
یہ کہانی پیمرا کی جانب سے 20 اپریل 2025 قبل ڈی ٹی ایچ کے دو نئے لائسنس کے اجرا کے اشتہار کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔۔پہلے 20 مئی 2025 تک درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔چھ مئی 2025 کو پیمرا پری بڈ کانفرنس کرواتی ہے۔ پہلے 20 جون 2025 تک درخواست دینے کی مدت بڑھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری توسیع 10 جولائی 2025 تک دی جاتی ہے۔نیٹ سیٹ بولی سے صرف چند گھنٹے پہلے 10 جولائی 2025 کوبڈنگ میں داخل ہوتا ہے۔نیٹ سیٹ کی کوئی چھان بھی نہیں کی جاتی کہ اس کا اپ لنکنگ کا کتنا تجربہ ہے اور اس کی اپنی فائننشل حیثیت کیا ہے۔ کیا نیٹ سیٹ اتنے وسیع نیٹ ورک کو سنبھالنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے یا نہیں اور کیا وہ اتنے بڑے انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی میں انویسٹمنٹ کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ڈی ٹی ایچ لائسنس جہاں پر وسیع سرمایہ کا تقاضہ کرتا ہے وہیں پر سکیورٹی کلیرنس اس کا اہم ترین جزو ہے۔اس وجہ سے یہاں پر سکروٹنی کا معیار تو بہت ہی سخت ہونا چاہیے تھا۔پیمرا اگر ریگولیشن تبدیل کر رہا ہے تو اس میں پھر دوسرے براڈ کاسٹرز کو بھی ، انہی ٹرم اینڈ کنڈیشن پر موقع دینا چاہیے تھا۔
صرف سنگل بڈر آتا ہے۔درخواست دینے والے سے ایڈیشنل 15 فیصدلائسنس فیس جو کہ ماضی میں 75 کروڑ روپے کے قریب تھی۔ تین درخواست دہندہ کمپنیوں نے سوا دو ارب روپے کے قریب ایڈوانس جمع کروایا۔جس پر پیمرا نے کئی سال منافع کھایا۔عدالت کے ذریعے تین درخواست دہندگان نے وہ 225 کروڑ روپے کے قریب رقم کئی سال کے بعد واپس لی۔پیمرا رقم پر کھایا گیا منافع کمپنیوں کو واپس کرنے پر تیار نہیں ہے۔مگر دوسری جانب نیٹ سیٹ نامی کمپنی سے ڈی ٹی ایچ کے لائسنس کے لیے درخواست دینے سے قبل 15 فیصد ایڈیشنل لائسنس فیس بھی نہیں لیتا۔ڈی ٹی ایچ کے لائسنس کی قیمت چار ارب 89 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد ہے۔اس کی درخواست کو سنگل بڈ کے باوجود قبول کر لیتا ہے۔اسے اتنے مہنگے لائسنس کی بولی میں” فری“ میں شامل کر لیتا ہے۔صرف شامل نہیں کرتا اسے کہتا ہے جاؤ جا کر پہلے سکیورٹی کلیرنس کروالو۔اتنی بھی کیا بے اعتباری ہے پیسے بعد میں دے دینا۔ پاکستان میں یہ پریکٹس ہمیشہ سے عام رہی ہے کہ سنگل بولیوں کو کبھی بھی انٹرٹین نہیں کیا جاتا۔کیونکہ یہ ہر کسی کی نظر میں کسی سکینڈل سے کم نہیں ہوتا۔ہمیشہ ایسی صورتحال میں دوبارہ بولیاں طلب کی جاتی ہیں۔مگر پیمرا کو پتہ نہیں کیوں نیٹ سیٹ کو لائسنس دینے کی آخر ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ وہ اتنی تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے کہ اسے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ وہ اپنے ہی گول میں گول کیے جا رہی ہے۔جبکہ اپنے ہی آرڈیننس کے برخلاف نیٹ سیٹ کو یہ بھی چھوٹ دے دی جاتی ہے کہ وہ لازمی حلف نامہ نہ دے جس پرتحریر ہے کہ ڈسٹریبیوشن کا لائسنس لینے سے قبل اس نے حلف نامہ جمع کروانا ہے کہ وہ براڈ کاسٹر نہیں ہے۔اور نہ ہی اس کے پاس بیرون ملک سے اندرون ملک براڈ کاسٹر لینڈنگ رائٹس ہیں۔پیمرا اپنے ریگولیشن پر جو الٹی قلابازیاں کھا رہا ہے وہ انتہائی حیرت انگیز ہیں۔مفادات کی کشمکش کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ماضی میں کراس میڈیا پالیسی نے پاکستانی صحافت کو تباہ و برباد کر دیا۔دنیا بھر میں جس کے پاس اخبار ہو اسے ٹی وی کا لائسنس اور جس کے پاس ٹی وی ہو اسے اخبار کا ڈیکلریشن نہیں دیا جاتا۔پرویز مشرف سے یہ گناہ عظیم مبینہ طور پر شیخ رشید اور محمد علی درانی نے کروایا۔سابق وفاقی وزیر نثار اے میمن کا دعوی ہے کہ انہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ٹائیکون کو اس ضمن میں کورا جواب دے دیا تھا۔انہوں نے صحافتی میر کو کہا تھا کہ پرویز مشرف سے کہہ کر وہ انہیں نکلوا دیں لیکن جب تک وہ ہیں وہ یہ کام نہیں ہونے دیں گے۔براڈ کاسٹر اگر ڈسٹریبیوٹر بھی بن جائے گا تو پھر اس کے چینل ہی ہر جگہ پر سب سے پہلے ہوں گے اور اس کی مرضی سے ہی کوئی دوسرا چینل لگے گا۔وہ دوسروں کو بلیک میل کرے گا ان سے ناجائز مراعات لے گا۔
آپ نیٹ سیٹ کے سی ای او سید رفیع الدین کا سی وی دیکھیں تو اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ ہیلتھ ٹی۔وی کے 15 سال چار ماہ سے زائد عرصہ سے سی ای او ہیں۔ جبکہ اسی دوران وہ نیٹ سیٹ کے بھی 2006 سے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ورلڈ کال میں ان کے خلاف مبینہ طور پر قانونی کاروائی بھی ہوئی تھی۔پیمرا ابھی تک یہ بتانے میں کامیاب نہیں ہے کہ اس نے کس قانون اور ضابطے کے تحت نیٹ سیٹ کی بولی قبول کی ہے۔اس صورتحال میں پیمرا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل وکیل خان کو مندرجہ ذیل سوال نامہ بھیجا گیا۔۔۔محترم وکیل خان صاحب، کیا یہ درست ہے کہ پیمرا قانون کے تحت براڈ کاسٹر کو ڈسٹری بیوٹر کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا؟
پیمرا آرڈیننس کے تحت، کیا ڈی ٹی ایچ (ڈائریکٹ ٹو ہوم) درخواست دہندگان سے لیا گیا حلف نامہ بھی نیٹ سیٹ کے درخواست دہندگان سے لیا جاتا ہے؟
میں آپ کو اٹیچمنٹ کے طور پر حلف نامہ بھیج رہا ہوں۔
یہ حلف نامہ جمع کرانے کے بعد، کیا نیٹ سیٹ درخواست دینے کا اہل ہے یا نہیں؟
کیا یہ حلف نامہ لیا گیا یا نہیں؟ اگر لیا گیا تو براڈکاسٹر کی درخواست کو کیسے قبول کیا گیا؟
کیا یہ سچ ہے کہ ماضی میں ایم ای جی، اسٹارٹ ٹائم اور شہزاد اسکائی نے سیکیورٹی کلیئرنس سے پہلے 743 ملین روپے 15 فیصد ALF (اضافی لائسنس فیس) کے طور پر ادا کیے؟
کیا NetSat نے 15% ALF بھی جمع کرایا ہے؟
کیا ڈسٹری بیوشن لائسنس کے لیے براڈکاسٹر کی درخواست قبول کرنا مفادات کے تصادم کو فروغ نہیں دیتا؟
کیا یہ درست ہے کہ ماضی میں تین کمپنیوں نے آپ کے پاس PKR 2.25 بلین سے زائد جمع کرائے اور پیمرا اس رقم پر بینکوں سے سود وصول کر رہا ہے جبکہ ان ALF ڈپازٹرز کو ایک پیسہ بھی ادا نہیں کر رہا؟
مگر ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل نے اس کا بہت ہی گول مول اور مختصر جواب دیا۔مگر انہوں نے اس کا جواب ضرور دیا۔مگر وہ حلف نامے،ریگولیشن ایڈیشنل لائسنس فیس ، براڈ کاسٹر اور ڈسٹریبیوشن کے مابین مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے سوالات کو انہوں نے سرے سے نہیں چھیڑا۔اور نہ ہی انہوں نے پیمرا کی جانب سے سوا دو ارب روپے کی رقم پر کئی سال منافع لینے اور منافہ کی رقم ابھی تک درخواست دہندگان کو واپس نہ کرنے کے حوالے سے لب کشائی نہیں کی۔(ناصرجمال)۔۔
