psl samaa tv multan sultans ka media partner bangya

‏ڈرائیور ضمیر الحسن بنام سما ٹی وی

تحریر: نورالامین دانش

ہم محکوموں کے پاؤں تلے۔۔جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی۔۔

محکوموں کے معاشرے کا ازل سے ہمیشہ یہی المیہ رہا ہے کہ یہ اپنے جیسے محکوموں کو دبا کر بادشاہ کے دربار میں نام پیدا کرنے کی جستجو میں رہے ہیں۔بہر حال ایسے استعماری نظام کی یہ بھی ہمیشہ سے خوبی رہی ہے کہ کوئی نہ کوئی بڑا مزاحمت کار ضرور پیدا کر ہی جاتا ہے جو باقی بے جان ، بے شعور اور خوشامدی گروہ کی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے زندگی وقف کر دیتاہے۔ سما ٹی وی میں دس سال سے زائد عرصہ تک کام کرنےوالے بہترین ڈرائیور ضمیر الحسن کا حوصلہ دیکھ کر آپ بھی رشک کر سکتے ہیں۔چند ہزار تنخواہ پر کام کرنیوالے ان بھائی صاحب نے طاقتور کے سامنے جھکنے کی بجائے اربوں پتیوں کے چینل کی غیر انسانی پالیسی پر عدالتی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔سوال یہ اٹھایا کہ کیسے دس سال تک دھرنوں ، گولیوں ، شیلنگز اور نجانے کن کن حالات میں اپنی زندگی سے زیادہ آپ کے سٹاف کو بروقت جگہ پر پہنچانے والے کو آپ بیٹھے بیٹھے بغیر وجہ بتائے روانگی کا پروانہ تھما سکتے ہیں۔بڑے بڑے اینکرز نے ضمیر کو سمجھایا لیکن اسکا ضمیر اپنے نام کی طرح روشن تھا۔ شاید وہ ان بے ضمیر اینکرز اور میڈیا مینیجرز کی طرح چھوٹا اور بزدل انسان نہیں تھا۔

مختصر یہ کہ خدا نے سما ٹی وی جیسے بڑے ہاتھی کو ضمیر بھائی کے سامنے سرنگوں کیا۔بحالی اور واجبات کی ادائیگی کا حکم ہو چکا ہے۔ کچھ وصول ہو نا ہو ضمیر اپنے ضمیر جنگ جیت چکا ہے۔ وہ چپکے سے ایچ آر کے حکم پر سرنگوں ہونے والے بزدلوں کی بجائے اپنے حق کے لئے لڑنے والوں کی فہرست میں اپنا نام درج کروا چکا ہے۔

زیر نظر عدالتی آرڈر ان مزاحمت پسند سوال کرنے والے ہر اس کردار کی جیت ہے جو اپنا حق لینا چاہتا ہے۔ آئیے سب اپنے اپنے ضمیر کی آواز کو سنیں ، پچاس ساٹھ سال کے اس سفر میں اتنا محتاط رہنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(نورالامین دانش)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں