ڈان نیوز کی ڈان ڈاٹ کام بند کرنے کا اعلان۔۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم نکتہ سے صحافیوں کی برطرفیوں کے بعد اب ڈان نیوز نے اپنی اردوویب سائٹ بھی بند کرنے کا اعلان کردیا ہے، اس حوالے سے تمام اسٹاف کو ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ دے دیا گیا ہے جو چھ دسمبر کو ختم ہوگا، اس دوران ملازمین چاہیں تو کام نہ کریں  جس پر ویب سائٹ کبھی بھی بند ہوسکتی ہے تاہم چھ دسمبر تک ویب سائٹ چلتی رہے گی۔۔پپو کاکہنا ہے کہ ڈان انتظامیہ نے یہ منافع بخش ادارہ کیوں بندکیا، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ ڈان ڈاٹ کام میں کل 12 سے 13 ملازمین ہیں ۔ جو اسسٹنٹ کے طور پر آئے ان کو ایک تنخواہ اور جو اسسٹنٹ کے اوپر پروڈیوسر کے لیول پر آئے ان کو تنخواہ کا 20 فیصد دیا جائے گا ۔پپو نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ویب سائٹ منافع میں جا رہی ہے ۔ کل ملا کر تنخواہیں 7 سے 8 لاکھ روپے ہیں ۔ ماہانہ منافع صرف فیس بک سے 2 ہزار ڈالر اور پیڈ آرٹیکل اور گوگل ایڈسنس کی رقم اس کے علاوہ ہے ۔ پھر بھی  اس ویب کوبند کرنا سمجھ میں نہیں آ رہا ۔دریں اثنا ڈان اردو ویب سائٹ سے صحافتی ورکرز کی برطرفیوں پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور تنظیموں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ، غیر اخلاقی اور ظالمانہ اقدام قرار دیا ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر حاجی نواز رضا، سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ، کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکریٹری ریحان خان چشتی اور مجلسِ عاملہ نے اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں کہا کہ ڈان میڈیا گروپ کی جانب سے درجنوں ملازمین کو اچانک فارغ کیا جانا صحافیوں کے معاشی استحصال اور آزادی صحافت پر حملہ ہے،رہنماؤں نے کہا کہ بغیر کسی پیشگی نوٹس یا قانونی جواز کے ملازمین کو برطرف کرنا ورکرز کے بنیادی روزگار کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ادارے پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے حالات میں ملازمین کو بے روزگار کرنا ظلم کے مترادف ہے۔پی ایف یو جے دستور اور کے یو جے دستور نے مطالبہ کیا کہ برطرف کیے گئے تمام ورکرز کو فوری طور پر بحال کیا جائے، انہیں تمام واجبات اور بقایاجات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے اور مستقبل میں ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو صحافیوں کے معاشی استحکام کو نقصان پہنچائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر انتظامیہ نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور) اور کراچی یونین آف جرنلسٹس (دستور) ملک گیر احتجاجی مہم شروع کریں گی اور اس معاملے کو پارلیمنٹ سمیت تمام متعلقہ فورمز پر اٹھایا جائے گا۔انہوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور میڈیا ورکرز کے روزگار کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پی ایف یو جے دستور اور کے یو جے دستور اپنے کسی بھی ساتھی کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں