خصوصی رپورٹ۔۔
پاکستان کی ٹیلی ویژن نیوز انڈسٹری میں تنخواہوں کی تاخیر اور عدم ادائیگی کا پرانا مسئلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، خصوصاً عیدالفطر سے قبل۔ اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس(آرآئی یوجے) نے وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ سے فوری حکومتی مداخلت کی اپیل کی ہے۔آرآئی یوجے کے صدر آصف بشیر چودھری نے وزیراطلاعات کے نام خط میں خبردار کیا ہے کہ کئی ٹی وی چینلز کے صحافی اور میڈیا کارکن شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ بارہا یقین دہانیوں کے باوجود تنخواہوں کی بقایا جات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
یونین کی 11 مارچ 2026 کو ہونے والی داخلی آڈٹ رپورٹ کے مطابق کم از کم سات ٹیلی ویژن چینلز کے ملازمین کو مکمل یا جزوی طور پر تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں۔ بعض ملازمین تین ماہ تک اپنی اجرت کے منتظر ہیں۔ یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہزاروں میڈیا کارکن عید کے اخراجات کی تیاری کر رہے ہیں مگر انہیں اپنی تنخواہوں کے اجرا کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں۔آر آئی یوجے کے مطابق نیونیوز میں متعدد ملازمین تین ماہ کی تنخواہوں کے منتظر ہیں۔۔ ایک نیوز میں جنوری اور فروری کی تنخواہیں ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔۔ ابتک نیوز میں فروری کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں ہوئی جب کہ جنوری کی ادائیگی بھی کافی تاخیرکے بعد کی گئی۔ سنو نیوز میں بھی فروری کی تنخواہیں ابھی باقی ہیں اور جنوری کی ادائیگی میں تاخیر کی گئی۔۔آج نیوز میں زیادہ تر ملازمین کو جنوری اور فروری کی تنخواہیں نہیں ملیں( ایسا نہیں ہے، دسمبر کی سیلری بھی اب تک نہیں دی گئی)۔۔بول نیوز اور تھری سکس فائیو نیوز میں فروری کی تنخواہ باقی ہے۔۔
پاکستان کی ٹی وی نیوز انڈسٹری میں کام کرنے والے رپورٹرز، پروڈیوسرز، کیمرہ مین، ایڈیٹرز اور دیگر عملہ اکثر ہفتوں یا مہینوں تک بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ انتظامیہ کسی وقت ان کے بقایاجات ادا کر دے گی۔یونین نمائندوں کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر جونیئر ملازمین پر پڑتا ہے، جو اپنے ماہانہ اخراجات جیسے کرایہ، سفر اور گھریلو ضروریات کے لیے مکمل طور پر تنخواہ پر انحصار کرتے ہیں۔ جب تنخواہیں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں تو کئی صحافی قرض لینے، بلوں کی ادائیگی مؤخر کرنے یا رشتہ داروں کی مدد لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔عیدالفطر عام طور پر گھریلو اخراجات میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جس میں نئے کپڑے، تحائف اور رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے سفر شامل ہے۔ مگر اس سال بہت سے میڈیا کارکنوں کے لیے عید خوشیوں کے بجائے مالی غیر یقینی کی علامت بن گئی ہے۔
آر آئی یوجے کے صدر آصف بشیر چودھری نے حکومت سے فوری طور پر تین اہم اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے جن میں۔۔تمام میڈیا ہاؤسز کو ہدایت دی جائے کہ عید کی تعطیلات سے قبل ملازمین کی تمام بقایا تنخواہیں ادا کریں۔سرکاری اشتہارات کی ادائیگی کو اس شرط سے منسلک کیا جائے کہ ادارہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کر چکا ہو۔وہ میڈیا ادارے جو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کرتے، انہیں فوری نوٹس جاری کیے جائیں۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا ) نے بھی گزشتہ ماہ سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی تھی کہ عیدالفطر سے پہلے ملازمین کی تنخواہیں بروقت ادا کی جائیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف ہدایات اور انتباہات سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ ان پر مؤثر عملدرآمد کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے صحافیوں کا خیال ہے کہ جب تک ساختی اصلاحات نہیں کی جاتیں، یہ بحران جاری رہے گا۔
گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں کئی ٹی وی چینلز اور اخبارات مالی مشکلات کا شکار رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملازمین کی برطرفیاں، اداروں کی سائز میں کمی اور تنخواہوں کی تاخیر جیسے مسائل سامنے آئے۔ماہرین کے مطابق اس بحران کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں۔۔ اشتہاری آمدن میں معاشی بحران کے باعث کمی۔۔ نیوز چینلز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اور اشتہارات کیلئے سخت مقابلہ۔۔سیاسی دباؤ اور حکومتی اشتہارات میں اچانک کمی۔۔ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت۔۔سرکاری اشتہارات کو تنخواہوں سے مشروط کرنے کی تجویز۔۔
مسلسل تاخیر سے ملنے والی تنخواہیں صرف ملازمین کے لیے مالی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہیں۔ مالی دباؤ کے باعث صحافیوں کی توجہ اور پیشہ ورانہ کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ تجربہ کار صحافی بہتر مالی مواقع کی تلاش میں ڈیجیٹل میڈیا، کارپوریٹ کمیونیکیشن یا بیرون ملک ملازمتوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے روایتی میڈیا کی صلاحیت اور ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے مزدور قوانین میں تنخواہوں کے تنازعات کے حل کے لیے طریقہ کار موجود ہے، مگر میڈیا ملازمین اکثر طویل قانونی کارروائی اور ملازمت کھونے کے خوف کے باعث عدالتوں کا رخ نہیں کرتے۔
عیدالفطر کے قریب آتے ہی آر آئی یوجے کی اپیل ایک اہم سوال کو اجاگر کرتی ہے: اگر ٹی وی چینلز اپنے صحافیوں کو بروقت تنخواہیں ادا نہیں کر سکتے تو اس سے پاکستان کی صحافت کی ساکھ اور پائیداری پر کیا اثر پڑے گا؟مسلسل تاخیر سے ملنے والی تنخواہیں نہ صرف صحافیوں کے روزگار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ پورے میڈیا نظام کے استحکام اور آزادی پر بھی سوالات اٹھاتی ہیں۔(خصوصی رپورٹ)۔۔
