سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزارتِ داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ متنازعہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت کئی خواتین صحافیوں کے خلاف درج کیے گئے سائبر کرائم کیس پر تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس کیس کا نوٹس لیا گیا، جس میں نیشنل پریس کلب کی سیکرٹری سمیت چار خواتین ارکان کے خلاف پیکا کیس بنایاگیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا اور وزارتِ داخلہ سے باضابطہ طور پر وضاحت طلب کی کہ یہ کیس کس بنیاد پر درج کیا گیا۔یہ پیش رفت صحافتی تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپس کی وسیع پیمانے پر تنقید کے بعد سامنے آئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ پیکا قانون کو صحافیوں کو ہراساں کرنے، خاموش کرانے اور دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس پہلے ہی اس کیس کی مذمت کر چکی ہے اور اسے صحافتی آزادی پر حملہ اور ملک میں کام کرنے والی خواتین صحافیوں کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔اس کیس کو تشویشناک بنانے والی بات اس کی انتقامی نوعیت ہے۔ اطلاعات کے مطابق خواتین صحافی محض اس لیے نامزد کر دی گئیں کیونکہ وہ ایک ہراسانی کی شکایت کو دیکھ رہی تھیں، لیکن اب وہ ایک فوجداری کیس میں الجھ گئی ہیں۔ حتیٰ کہ نیشنل پریس کلب ویمن کاواٹس ایپ گروپ کی ایڈمنز اور تمام 171 اراکین کو بھی اس کیس میں شامل کر لیا گیا ہے۔پیکا ایکٹ دوہزار سولہ میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ آن لائن ہراسانی، نفرت انگیز تقاریر اور سائبر جرائم پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم اس پر بارہا تنقید کی گئی ہے کہ اسے صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور اختلافِ رائے رکھنے والی آوازوں کے خلاف غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو اس کے مبہم اور وسیع پیمانے پر لاگو ہونے والی دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔خواتین صحافیوں کو اس کیس میں شامل کیے جانے نے خاص طور پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں خواتین کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے کیسز خواتین کو صحافت کے پیشے سے جڑنے سے مزید دبا سکتے ہیں، جبکہ پہلے ہی میڈیا میں نمائندگی اور تنوع دباؤ کا شکار ہے۔سینیٹ کمیٹی کی جانب سے رپورٹ طلب کیے جانے کو ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم صحافتی تنظیموں کا اصرار ہے کہ الزامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔واضح رہے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے 27 فروری 2025 کو ایف آئی آر درج کی، جس میں پی ای سی اے کی دفعہ 21/1(d) اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 506(II)، 34 اور 109 شامل کی گئیں۔ یہ کارروائی ناصر خان خٹک کی جانب سے دائر شکایت پر کی گئی، جو اس وقت اپنی شریک حیات اور این پی سی کی رکن سلمیٰ شاہد کے ساتھ تنازع میں ہیں۔ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ سلمیٰ شاہد نے اس نجی تنازع کی تفصیلات اپنے دیگر این پی سی ارکان کے ساتھ ایک واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیں، ایف آئی آر میں گروپ کے تمام 171 اراکین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ویمنز میڈیا فورم پاکستان کے مطابق ایف آئی اے نے یہ مقدمات ان خواتین صحافیوں کو کوئی وضاحتی مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر درج کیے۔ ڈبلیو ایم ایف پی نے اس ایف آئی آر کو خواتین صحافیوں کو خاموش کرانے اور ان کے اظہارِ رائے اور آزادیِ اجتماع کے حق کو محدود کرنے کی خطرناک کوشش” قرار دیا۔
