تحریر: امجد عثمانی۔۔
معمار نارووال جناب احسن اقبال کے “دلکش شہر” کے خوب صورت جم خانہ کلب میں سجی مجلس میں پیمرا پنجاب کی باوقار ڈائریکٹر جنرل محترمہ عائشہ منظور وٹو کی زبانی یہ راز کھلا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ٹی وی چینلز میں تنخواہوں کے بحران کو بھی باقاعدہ اپنا موضوع بنا لیا ہے اور اس حوالے سے اپنے قوانین میں ترمیم کرکے ایک شق شامل کی ہے جس کے تحت اب ٹی وی چینلز کے صحافی پیمرا کی “کونسل آف کمپلینٹس”میں اپنی تنخواہوں کا مقدمہ پیش کر سکتے ہیں۔۔۔انہوں نے اگلے لمحے ہی اظہار تاسف بھی کیا کہ نا جانے کیوں کارکن صحافی اپنے حق کے لیے یہ فورم استعمال کرنے سے خائف ہیں۔؟؟؟میں نے کہا یہ خبر میرے لیے یہ کسی انکشاف سے کم نہیں۔۔۔میرا نہیں خیال کہ الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کو بھی پیمرا کے اس اقدام کا علم ہو۔۔ہو سکتا ہے مالکان کے علاؤہ چینلز کے کرتا دھرتا اس خبر سے باخبر ہوں لیکن وہ کارکنوں کو یہ بات کیوں باتیں گے کہ یہی تو ان کے منصب کا تقاضاہے۔۔ بہر حال دیر آید درست آید، یہ ایک بہترین اقدام ہے جو الیکٹرانک میڈیا مالکان کے ڈسے ہوئے صحافیوں کے زخموں پر مرہم ثابت ہوگا۔۔جم خانہ میں نارووال کے اکلوتے دانشور اخبار نویس جناب ملک سعید الحق کے پرتلکف عشایے سے پہلے یونیورسٹی آف نارووال میں پہلے سے شیڈولیڈ پروقار تقریب بھی تھی جس میں محترمہ عائشہ منظور وٹو نے پیمرا کے کوڈ آف کنڈکٹ کے بارے میں ضلع نارووال کے صحافیوں اور ابلاغ عامہ کے طالب علموں کو آگاہی لیکچر دیا۔۔۔کیا ہی” ڈائون ٹو ارتھ” خاتون ہیں۔کہیں محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ وہ سابق وزیراعلی پنجاب کی صاحب زادی ہیں۔۔ہاں پانچ گھنٹے کی نشست و برخاست میں ان میں کسی چیز کی جھلک نظر آئی تو وہ تہذیب و تمدن کی جھلک تھی۔۔۔۔پیمرا میں ان کے 17سالہ کیرئیر کی جھلک تھی۔۔۔برادرم اعظم خاور نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا کہ ڈی جی پیمرا کی انکساری دیکھ کر نارووال کے ایک صحافی نے حیرانی سے پوچھا کہ واقعی عائشہ صاحبہ سابق وزیر اعلی پنجاب جناب منظور وٹو کی بیٹی ہیں۔۔؟شاید اس صحافی کا سوال درست ہی تھا کہ یہاں تو ایک یونین کونسل چیئرمین کی اولاد کی ننھی منی گردن میں سریا آجاتا ہے چہ جائیکہ کوئی سابق وزیر اعلی کی بیٹی ہو اور اتنی کمپلیکس فری ہو۔۔!!!اس تقریب کی کہانی یہ ہے کہ کچھ دن پہلے برادرم رانا خالد اور رانا عامر نے بتایا کہ ڈی جی پیمرا پنجاب محترمہ عائشہ وٹو کا پروگرام ہے کہ وہ صوبے کے ایک ایک ضلع جائیں گی اورویاں کے صحافیوں اور سول سوسائٹی سے مکالمہ کریں گی۔۔۔انہوں نے حکم دیا کہ ایک پروگرام اپنے ضلع نارووال میں بھی ارینج کر دیجیے اور خود ساتھ بھی چلیے۔۔۔حکم کی تعمیل میں نے یاران شکرگڑھ کے تا حیات چیئرمین جناب مرزا سرور کو بھی ساتھ لیا اور رانا خالد ۔۔رانا عامر اور عمران بشیر کے قافلے کا حصہ بن گیا جبکہ عمران نومی پہلے ہی ادھر تھے ۔۔۔۔میرے خیال میں پیمرا کی تاریخ کا پہلا گراس روٹ لیول پرگرام جس کا کریڈٹ ڈی جی پیمرا پنجاب محترمہ عائشہ وٹو کو جاتا ہے۔۔۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیمرا پنجاب کا پنجاب کے اضلاع کے صحافیوں سے انٹر ایکشن ایک اچھا انشی ایٹو ہے جو گراس روٹ لیول تک آگاہی کے در کھولے گا۔۔۔نارووال یونیورسٹی میں یہ تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جس کا کریڈٹ نیشنل پریس کلب نارووال کے چیئرمین جناب سعید الحق ملک اور نارووال یونیورسٹی کے ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حسیب سرور کو جاتا ہے۔۔۔جناب حسیب سرور بنیادی طور پر ورکنگ جرنلسٹ ہیں اور جو ایک مرتبہ صحافی ٹھہرے اس کے اندر کا صحافی کبھی نہیں مرتا۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ وہ صحافیوں کے لیے دید و دل فرش راہ کر دیتے ہیں۔۔۔اور ان دونوں قابل صد احترام شخصیات کے ساتھ ساتھ لاہور پریس کلب کے لائف ممبر اور ہمدم دیرینہ برادرم اعظم خاور بھی اس تقریب کو سجانے میں پیش پیش تھے۔۔انہوں نے ڈاکٹر حسیب سرور اور ملک سعید الحق کے ساتھ لاہور سے گئے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور گلدستہ پیش کیا۔۔۔ تقریب کی خوب صورتی یہ تھی کہ نارووال یونیورسٹی کے منکسر المزاج وائس چانسلر جناب ڈاکٹر ضیا الحق نے ناصرف مہمانوں کو اپنے آفس میں کافی پیش کی بلکہ بہ نفس نفیس تقریب میں بھی شریک ہوئے۔۔۔مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔۔۔۔اظہار خیال کیا اور محترمہ عائشہ وٹو کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔۔۔تقریب کی سب سے شان دار تقریر جناب سعید الحق ملک کی تھی جس پر ہال کئی بار تالیوں سے گونجا۔۔۔۔یہاں شہر یاراں شکرگڑھ کے صحافیوں جناب شہزاد حنیف ۔۔۔۔جناب خالد عرفان خالد ۔۔۔جناب علی رضا۔۔۔۔جناب حافظ عرفان ۔۔۔جناب رانا مہران اور جناب متاع قادری کی قیادت 20 رکنی صحافی وفد دوست 30 کلو میٹر سفر کرکے نارووال پہنچا اور مہمانوں کے لیے پلکیں بچھا دیں۔۔۔وہ ڈی جی عائشہ وٹو کے لیے خاص طور چادر اور مٹھائی کا تحفہ بھی لائے۔۔۔۔صحافی ہی نہیں شہر کے سب سے لذیذ ریسٹورنٹ کے درویش منش مالک عرفان سیٹھ بھی بھاگے چلے آئے اور اصرار کرتے رہ گئے کہ شام کا کھانا شکرگڑھ چل کھائیں۔۔۔یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ شہر یاراں سے محبت سے مزین خوشبو کے جھونکوں نے سرشار کردیا۔۔۔۔جب کبھی چڑھتے سورج کی دھرتی کا رخ کیا دوست احباب نے “دید و دل” فرش راہ کر دیے۔۔۔(امجد عثمانی)۔۔
