پی ٹی وی نیوز اور پی ٹی وی ورلڈ کے بعد بھی گزشتہ کئی دنوں سے ایوان اقتدار میں بازگشت تھی کہ اسلام آباد سے پی ٹی وی ایک اور انگریزی کا ڈیجیٹل سیٹ اپ لا رہا ہے۔ اس کے لئے ایک سینئر صحافی اور اینکر کی مدد حاصل کی گئی اور انہوں نے کام بھی شروع کیا مگر پھر انہیں اندازہ ہوا کہ اس کام میں تو بدنامی بہت ہے۔ پپو کے مطابق ان صاحب نے اپنے سب سے قریبی ساتھی اور رشتہ دار کو وہاں پر تعینات کرایا کیوں کہ وزارت اطلاعات میں سینئر صحافی کی مخالفت بہت تھی۔ اس کا حل سینئر صحافی نے یہ نکالا کہ اپنے قریبی ساتھی کو ساتھ لگایا اور ایک رشتہ دار کو بھی وہاں بھاری بھرکم تنخواہ پر تعینات کرادیا ۔ پپو کے مطابق سینئر صحافی مستقل بنیادوں پر اس سیٹ اپ کی تیاری کے لئے کام کررہے ہیں مگر کاغذات پر دیکھا جائے تو وہ اس کے عوض کوئی رقم حاصل نہیں کررہے ۔ سینئر صحافی کے قریبی ساتھی جنہیں پی ٹی وی کے نئے سیٹ اپ میں اہم پوسٹ پر تعینات کیا گیا انہیں اتنی تنخواہ دی گئی ہے کہ پی ٹی وی کے بڑے بڑے افسران سخت پریشان ہیں کہ پی ٹی وی ملازمین کے لئے تنخواہیں نہیں ہیں اور سابقہ ملازمین کے لئے پنشن کی رقم نہیں ہے تو یہ نئے آنے والے سیٹ اپ کے لئے اتنی بھاری رقم کا بندوبست کہاں سے کیا گیا ہے۔ ارباب اختیار کو دیکھنا چاہیئے کہ ملکی چینل اور اس کی رقم وہ کس طرح اور کس پر خرچ کررہے ہیں کیونکہ اہم پوسٹوں پر تعینات ہونے والوں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جنہوں نے کوئی ایک بھی کامیاب سیٹ اپ لگایا ہو۔۔پپو کے مطابق سینئر صحافی اور پی ٹی وی کے نئے سیٹ اپ یعنی پاکستان ٹی وی میں تعینات ہونے والے افسر کے تعلقات کی بات کی جائے تو ان کا تعلق پندرہ سال سے پرانا ہے اور وہ اس سے پہلے بھی ان کے ہر کام کا ساتھی رہا ہے۔ جبکہ دوسری اہم پوسٹ پر تعینات ہونے والے صاحب تو سینئر صحافی کے رشتہ دار ہیں۔ پپو کے مطابق اقربا پروری یہ رہی تو اس پروجیکٹ کا اللہ ہی حافظ ہے مگر کسی نے اپنی بوٹی کی لئے پاکستان ٹیلی ویژن کی گائے ہی ذبح کردی اور اگر یہ پراجیکٹ ایک سال بھی چل گیا تو اہم پوسٹ پر تعینات ہونے والے شخص کو تقریبا دس سال کی تنخواہ مل جائیگی اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سینئر صحافی اس شخص سے ہر ماہ کتنے پیسے بٹورتے ہیں اور ادارے کو کتنا نقصان پہنچایا جاتا ہے؟ ڈر تو یہ ہے کہ اس سب میں کام کرنے والے اصل صحافی پھر نقصان اٹھائیں گے کیونکہ لاکھ والا شخص اگر پانچ لاکھ میں رکھا گیا تو اس پورے سسٹم کو ختم ہونے کے بعد وہ کس طرح گزارہ کرے گا۔ سینئر صحافی تو نجی ٹی وی پر اپنا کام جاری رکھیں گے اور اداروں کے پراجیکٹ لیتے رہیں گے۔سینئر صحافی کے قریبی ساتھی تو وہ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے مگر اصل صحافی حضرات کا کیا ہوگا یہ کوئی نہیں بتائے گا۔ پپو کے مطابق حکومت اور حکومتی اداروں کو رقم خرچ کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنی چاہیئے اور اگر انہیں کسی کو نوازنا ہی تو اس کا کوئی اور طریقہ کار نکالیں۔ اس سے پہلے بھی نوازنے کے لئے کئی صحافیوں کو بلی چڑھایا گیا ہے۔ اس طرح کے اقدام سے صرف اس حکومت کی بدنامی ہوگی بلکہ اسٹیٹ کے شروع کئے ہوئے پراجیکٹ بھی ناکام ہونگے۔ پپو کے مطابق بیوروکریسی اس پراجیکٹ کے سخت خلاف ہے ۔ پپو کے مطابق اس پراجیکٹ کی لانچنگ ستمبر کے مہینے میں ہوگی جس کے لئے مطلوبہ ملازمین کو تعینات کیا جاچکا ہے۔
