پی ٹی آئی نے پیکا ایکٹ کا استعمال شروع کردیا،خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے پشاور کے صحافی عرفان خان کیخلاف ایف آئی نے میں پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی میں شکایت جمع کرادی ۔جس پر انکوائری بھی شروع کردی گئی۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز ( سی پی این ای )نے پشاور کے سینیر صحافی اور پشاور پریس کلب کے نائب صدر کے خلاف پیکا ایکٹ کے مقدمہ درج کیے جانے کی درخواست کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر اور سیکریٹری جنرل نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی شاہ کی جانب سے ایف آئی اے کو دی گئی درخواست میں صحافی عرفان خان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر کارروائی کے مطالبے کی درخواست کو ریاستی عناصر کی جانب سے آزادی اظہار رائے کے آئینی اور جمہوری حق پر حملہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے اپنی ایک حالیہ ملاقات کے دوران سی پی این ای کو یقین دلایا تھا کہ ان کے صوبے میں پیکا ایکٹ کے تحت کسی صحافی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی تاہم اگر عرفان خان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمے کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کوئی مقدمہ درج کیا گیا تو یہ علی امین گنڈا پور کے بیانیے کی نفی ہوگی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ عرفان خان کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی درخواست فی الفور واپس لی جائے اور کسی بھی صحافی کے خلاف انتقامی کارروائی سے باز رہا جائے۔
