پشاور ہائیکورٹ نے مردان سے تعلق رکھنے والے صحافی محمد زاہد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمہ کو ماورائے قانون قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر خارج کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کو پیکا ایکٹ سمیت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 20، 500 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ڈویژن بنچ، جسٹس صاحبزادہ اسداللہ خان اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل تھا، جس نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صحافی کے خلاف درج مقدمہ قانون کے دائرے سے باہر تھا، لہٰذا اسے فوری طور پر خارج کیا جاتا ہے۔درخواست گزار صحافی محمد زاہد کی قانونی معاونت معروف قانون دان نجم الدین خان ایڈوکیٹ نے کی، جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو مکمل طور پر مطمئن کیا۔ دوسری جانب مردان پریس کلب کی جانب سے ممتاز وکیل شبیر حسین گگیانی نے کیس کی پیروی کی۔صحافتی حلقوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو آزادیٔ صحافت کے حق میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
