وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے معاملے پر کیا گیا احتجاج سیاسی نہیں بلکہ ایک بنیادی اور آئینی حق کے حصول کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقصد سیاست کرنا ہوتا تو رویہ مختلف ہوتا، تاہم مطالبہ صرف یہ ہے کہ بانی چیئرمین کو ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر فیصل سلطان تک رسائی دی جائے، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔پشاور پریس کلب کی نومنتخب کابینہ اور گورننگ باڈی کی تقریبِ حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو اسپتال میں علاج سے روکنا آئین، قانون اور انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود مکمل طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جمہوری رویے کو کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پر بلاجواز ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک کی معیشت قرضوں پر چل رہی ہے تو دوسری جانب عیاشی کے لیے خصوصی طیارہ خریدا گیا۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے 37 ملین ڈالر مالیت کا طیارہ خریدنا عوامی وسائل کا غلط استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مقروض ملک ہے اور ایسے حالات میں شاہانہ اخراجات ناانصافی کے مترادف ہیں۔وزیراعلیٰ نے قومی خزانے میں مبینہ 5300 ارب روپے کی کرپشن کی رپورٹ کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے فوری توجہ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے کے 4758 ارب روپے کے بقایاجات ادا کیے جائیں، جو خیبر پختونخوا کا آئینی حق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دینے والے صوبے کے ساتھ مالی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے پشاور پریس کلب کی نومنتخب کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پریس کلب نے ہمیشہ جمہوریت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت اور جمہوری اداروں کا مضبوط ہونا ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور صوبے میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے صحافیوں نے دہشت گردی کے مشکل حالات میں بھی حق اور سچ کا ساتھ دیا، جن کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پشاور پریس کلب کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے 15 کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کیا۔ علاوہ ازیں صحافیوں کے لیے اسکالرشپس کی تعداد 100 سے بڑھا کر 150 کرنے، جرنلسٹس ویلفیئر انڈومنٹ فنڈ کو 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے اور پشاور پریس کلب کی نئی عمارت یا ہائی رائز منصوبے کے لیے پی سی ون جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی۔
