پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر رانا محمد عظیم، سیکرٹری جنرل شکیل احمد اور ارکان فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے اسلام آباد پولیس کے نیشنل پریس کلب پر بولے گئے دھاوے اور کلب میں داخل ہوکر ممبران اور صحافیوں پر تشدد اورتوڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ارباب اختیار اس واقعہ کا فوری نوٹس لے کر ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیں۔ پی ایف یو جے لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ نیشنل پریس کلب پر حملہ آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے مگر اس طرح کے پولیس گردی جیسے واقعات افسوسناک ہیں جو آزادی اظہار رائے کو دبانے کے مترادف ہیں اور ناقابل برداشت ہیں۔ پی ایف یو جے لیڈرشپ نےنیشنل پریس کلب کے عہدیداران وممبران سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حملے کے احکامات دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ہراسانی اور تشدد سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے سخت پالیسی مرتب کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پی ایف یو جے لیڈرشپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے تاکہ صحافیوں میں پائی جانے والی بے چینی دور ہو سکے اور آئندہ پریس کلب کی حدود کو پار کرنے اور صحافیوں پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) کے صدر اعجاز احمد، جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نقوی، نائب صدور محمد ناصر شریف، راہب گاہو، خازن یاسر محمود، جوائنٹ سیکریٹریز طلحہٰ ہاشمی، روبینہ یاسمین اور مجلس عاملہ کے اراکین نے اسلام آباد میں پولیس کے نیشنل پریس کلب پر دھاوے،کلب میں داخل ہوکر کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداروں و دیگر صحافیوں پر تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں کے یو جے کے عہدیداروں نے کہا کہ نیشنل پریس کلب پر حملہ آزادیٔ صحافت اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور صحافی ہر حال میں عوام تک سچائی پہنچانے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ایسے افسوسناک واقعات سے آزادی اظہار رائے کو دبانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نےنیشنل پریس کلب کے عہدیداران وممبران سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملے کے احکامات دینے والے اور اس میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو ہراسانی اور تشدد سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اس حوالے سے سخت پالیسی مرتب کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
