پرنٹ میڈیا کازوال ،صحافیوں کی غیر قانونی برطرفیاں اور شرائط ملازمت۔۔

تحریر: اسرار ایوبی

صحافت معلومات اور خبروں کو جمع کرنے ان کے تجزیہ اور تصدیق کرنے کے بعد انہیں عوام الناس کو پیش کرنے کا  ایک ذمہ دار اور باوقارپیشہ ہے۔ اسی لئے صحافت  کو ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ حاصل  ہے۔آڈٹ بیورو آف سرکیولیشن(ABC) حکومت پاکستان کے مطابق 19جون 2025 تک  ملک بھر میں شائع ہونے والے قومی اور علاقائی اخبارات و جرائد کی کل تعداد840 تھی، جن میں سینکڑوں عامل صحافی اور دیگر مددگارملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں ۔عصر حاضر میں جدید الیکٹرونک میڈیا اور   پھرڈیجیٹل میڈیا   کی آمد سے قبل اخبارات و جرائد کو معاشرہ میں بیحد اہمیت حاصل تھی لیکن21 ویں صدی میں تیزی سے   فروغ پذیر ٹیکنالوجی  کی بدولت رونما ہونے والے چوتھے صنعتی انقلاب کے باعث  پرنٹ میڈیا  کا  دو صدیوں  پر محیط سنہری دور اپنے منطقی انجام کو پہنچنے لگا ہے ۔اخبارات و جرائد کی جانب سے قارئین کے لئے انٹر نیٹ پر اخبارات کے ای پیپر کے  اجراء   کے بعد  قارئین کو خرید کر اخبار پڑھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔جس کے نتیجہ میں اب روائتی  پرنٹ میڈیا کی صنعت تیزی سے دم توڑ رہی  ہے ۔ بڑے بڑے نامور اور کثیر الاشاعت اخبارات و جرائد کی اشاعت محدود سے محدود تر ہوچکی ہے  اور مالی خسارہ کے باعث  کئی شہروں کے ایڈیشنز  بھی بند کردیئے گئے  ہیں۔گزشتہ سات دہائیوں کے دوران قومی اخبارات و جرائد نے تو  منافع بخش اشتہارات کے ذریعہ بھاری کمائی کی  اوراس کی بدولت نت نئے کاروبار  اور ادارےقائم کرکے   ترقی کی منازل  طے کرتے ہوئے فرش سے عرش پر پہنچ  گئے۔لیکن  افسوس ان اخبارات اور جرائد کو شب و روز اپنے خون پسینے سے سینچنے والےاوراپنی شب وروز کی محنت کی بدولت انہیں شہرت اور عروج کی بلندیوں تک پہنچانے  والےعامل صحافی اور عملہ آج بھی اپنے بنیادی حقوق سےمحروم ہے ۔

 واضح رہے کہ ملک  کے تمام  اخبارات و جرائد پر ایک اہم مزدور قانون صنعتی تعلقات  آرڈیننس 1969کا اطلاق  ہوتا ہے ۔ لیکن قومی اخبارات و جرائد میں اس قانون پر سرے سے کوئی عمل در آمد نہیں کیا جاتا اور عامل صحافیوں اور عملہ کے روزگار کے حقوق کا تحفظ کرنے والی ٹریڈ یونینیں بھی اب  قصہ پارینہ بن چکی ہے جس کے نتیجہ میں ذرائع ابلاغ کے طاقت ور مالکان اپنے اخباری ملازمین سے سخت غیر منصفانہ برتاؤ کے  مرتکب ہو رہے ہیں۔ملک میں پرنٹ میڈیا کی تیزی سے دم توڑتی صنعت کی صورت حال کا ایک بدترین پہلو یہ ہے کہ  صنعت پرنٹ میڈیا   میں ایک طویل عرصہ تک خدمات انجام دینے والےسینکڑوں عامل صحافیوں اور دیگر عملہ کو کھڑے کھڑے  زبانی طور پران کی ملازمتوں سے برطرف کردیا جاتا ہے  اور ستم بالائے ستم یہ  کہ سنگدل اخباری مالکان اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ان کے جائز واجبات بھی  روک لیتے ہیں اور  انہیں   عمر  کے آخری حصہ میں بے روزگاری کی دلدل میں  تنہا اوربے یار و مددگار چھوڑدیتے ہیں۔ بیروزگاری کے عفریت کی اس تشویشناک صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے بیشتر صحافیوں  کو اپنا اور اپنے گھرانے کا پیٹ پالنے کے لئے چھوٹی موٹی ملازمتیں شروع کرنا پڑگئیں اور بعض نے اپنے یو ٹیوب چینلز قائم کرکے اسے اپنا  معاشی وسیلہ بنالیا  ۔جبکہ دوسری جانب اٹھتے بیٹھتے صحافیوں کی فلاح و بہبود کا  دم  بھرنے والی صحافیوں کی مقامی اور ملک گیر انجمنوں نےذرائع ابلاغ کے ظالم اور طاقت ور  مالکان کی جانب سے سینکڑوں عامل صحافیوں اور عملہ کی برطرفیوں کے  غیر قانونی ا قدامات  کے خلاف سنجیدگی سے قانونی چارہ جوئی کرنے کے بجائے محض  مذمتی بیان بازی،احتجاج اور مظاہروں تک خود کو محدود  رکھا ہواہے ۔حق  تو یہ تھا کہ اخبارات و جرائد کے   عامل صحافیوں اور  عملہ کو غیر قانونی طور پر برطرف  کرنے اور ان کے لاکھوں روپے کے واجبات  روک لینے کے بجائے انہیں مالکان کی جانب سے ان  کےاخبارات اور جرائد کے لئے انجام دی جانے والی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں تنخواہوں، مراعات، گریجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ  کے  جملہ واجبات کی مجموعی ادائیگی کرکے عزت اور وقار کے ساتھ رخصت  کیا جاتا۔ لیکن  ملک بھر کے اخبارات و جرائد  میں آئے دن برسوں خدمات انجام دینے والے   عامل صحافیوں اور دیگر  عملہ کی اچانک اور غیر قانونی  برطرفیاں   عمل  میں لائی  جارہی ہیں اور ان کی واجب الادا تنخواہیں،مراعات، جملہ ملازمتی واجبات بشمول رخصت کی نقدی،  جنرل پروویڈنٹ فنڈ،  گریجویٹی، اپنے اور اہل خانہ کے لئےطبی سہولیات   کی فراہمی اوراخبارات کے  مالکان کی جانب سےای او بی آئی کی پنشن کے لئےواجب الادا کنٹری بیوشن کی ادائیگی اور ان کی ملازمت کی تصدیق کی ذمہ داری بھی  ادا نہیں کی جارہی   ۔ ملازمت سےاچانک برطرفی کے صدمہ سے متاثر ہوکر کئی صحافی موذی امراض کا شکار ہوگئے ہیں اور متعدد توجان کی بازی تک ہار چکے ہیں ۔اخباری مالکان  کی جانب سے اپنے اخباری ملازمین کے ساتھ روا  رکھا گیا  یہ ناروا عمل  سراسر ظالمانہ، غیر منصفانہ ہے جو  مروجہ مزدورقوانین  کی سنگین خلاف ورزی  ہےاور قانون کے مطابق مستوجب جرمانہ اور سزا ہے۔

 جبکہ  اگر ہم  غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حکومت پاکستان  آج سے 52 برس قبل اخبارات و جرائد میں خدمات انجام دینے والے عامل صحافیوں اور عملہ کے  حقوق کے تحفظ کےلئے   بیحدموثرقانون سازی  متعارف کراچکی  ہے۔ جس کے تحت اگست1973 میں عامل صحافیوں (شرائط ملازمت) آرڈیننس 1960 کو منسوخ کرکے بعض ترامیم اور تبدیلیوں کے ساتھ اخباری ملازمین اور عملہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک نیا قانون اخباری ملازمین (شرائط ملازمت) ایکٹ مجریہ 1973ء وضع کیا گیا تھا اور اس  قانون کو 11 اگست  کو1973 ملک بھر میں فوری طور پر نافذ کیا گیا تھا ۔اس ایکٹ کا اصل مقصد صحافیوں کی اجرت کی شرح مقرر کرنے کے لئے ایک ویج بورڈ کا قیام بھی تھا۔ ویج بورڈ کے فیصلہ کو موثر عملدرآمد فراہم کرنے کے لئے صنعتی تعلقات  آرڈیننس1969 اور مغربی پاکستان  صنعتی  اور تجارتی ملازمت( اسٹینڈنگ آرڈرز) 1968 کا اخباری ملازمین اور اخباری اداروں پر اطلاق اور ان کی ملازمت کو تحفظ بخشنے کے لئے اوقات کار اور طبی نگہداشت وغیرہ کے لئے اس بل کو یکم اگست1973 کو قومی اسمبلی میں متعارف کرایا گیا تھا ۔ہم یہاں اس  اہم قانون کا اردو متن صحافی برادری کی آگہی اور  استفادہ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔  ۔۔۔۔۔

 اخباری ملازمین ( شرائط ملازمت ) ایکٹ مجریہ1973

ایکٹ نمبر LVIII آف 1973

11 اگست، 1973

ہرگاہ یہ امر قرین مصلحت ہے کہ عامل صحافیوں ( شرائط ملازمت) آرڈیننس 1960 کو منسوخ کر کے اسے بعض ترامیم کے ساتھ دوبارہ نافذ کیا جائے؛

لہٰذا، یہ قانون درج ذیل طور پر بنایا جاتا ہے:

دفعہ 1: اس ایکٹ کو “اخباری ملازمین ( شرائط ملازمت) ایکٹ، 1973” کہا جائے گا۔

(2)  اس کا اطلاق پورے پاکستان پر ہوگا۔

(3)  یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔

دفعہ 2: اس ایکٹ میں، جب تک سیاق و سباق میں کچھ اور مراد نہ ہو:

الف)    “بورڈ” سے مراد وہ اجرت بورڈ ہے جو دفعہ 9 کے تحت قائم کیا گیا ہو؛

ب)  ”  کمیشن” سے مراد قومی صنعتی تعلقات کمیشن ہے جو آرڈیننس کی دفعہ 22-الف کے تحت قائم کیا گیا ہو؛

ج)    “اخبار” سے مراد کوئی بھی چھپی ہوئی دورانیہ وار مطبوعہ اشاعت ہے جس میں عوامی خبریں یا ان پر تبصرے شامل ہوں؛ اور اس میں وہ دیگر اقسام کی مطبوعہ اشاعتیں بھی شامل ہوں گی جنہیں وقتاً فوقتاً وفاقی حکومت سرکاری گزٹ کے ذریعہ اس مقصد کے لئےمطلع کرے؛

د)    “اخباری ملازم” سے مراد وہ شخص ہے جو کسی اخباری ادارے میں یا اس سے متعلقہ کسی کام کے لئے  ملازم ہو؛ اور اس میں شامل ہیں:

  • (i) کل وقتی صحافی، جن میں شامل ہیں: ایڈیٹر، لیڈر رائٹر، نیوز ایڈیٹر، فیچر رائٹر، رپورٹر، نامہ نگار، کاپی چیکر، کارٹونسٹ، نیوز فوٹوگرافر، خطاط اور پروف ریڈر؛
  • (ii) کل وقتی غیر صحافی، جن میں شامل ہیں: منیجر، کلرک، اسٹینو ٹائپسٹ، پرنٹنگ انجینئر، لائنوٹائپ آپریٹر، کمپوزر، ٹائپ سیٹر، فوٹو سٹوڈیو اسسٹنٹ، پرنٹنگ ورکر، اکاؤنٹنٹ اور دفتر کا چپڑاسی؛

ہ)  “اخباری ادارہ” سے مراد ایسا ادارہ ہے جو کسی شخص یا اشخاص کے کنٹرول میں ہو، خواہ وہ قانونی طور پر رجسٹرڈ ہو یا نہ ہواور جو ایک یا ایک سے زیادہ اخبارات کی تیاری، طباعت یا اشاعت کے لیے قائم ہو یا کوئی نیوز ایجنسی یا سنڈیکیٹ چلاتا ہو؛

و)  “آرڈیننس” سے مراد صنعتی تعلقات آرڈیننس 1969 ہے؛

ز)  “مقررہ” سے مراد وہ طریقہ کار یا قواعد ہیں جو اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے ہوں؛

ز)۔الف  “ٹریبونل” سے مراد وہ ٹریبونل ہے جو دفعہ 12A کے تحت قائم کیا گیا ہو؛

ح)   “اجرت” سے مراد ادائیگی اجرت ایکٹ، 1936 میں دی گئی تعریف ہے، اور اس میں وہ گریجویٹی یا دیگر ادائیگیاں بھی شامل ہیں جنہیں بورڈ اجرت قرار دے؛

ی) اس قانون میں استعمال ہونے والے وہ تمام الفاظ اور اصطلاحات جن کی تعریف اس قانون میں نہیں کی گئی لیکن وہ آرڈیننس میں موجود ہیں، ان کو وہی معنی دیے جائیں گے جو انہیں آرڈیننس میں دئے گئے ہیں۔

دفعہ 3:  کوئی بھی اخباری ادارہ، جو کسی اخباری ملازم کو ملازم رکھتا ہے، اس کی تقرری، تبادلے یا ترقی کے وقت اُسے ایک تحریری حکم نامہ فراہم کرے گا ،جس میں اس کی ملازمت کی شرائط و ضوابط درج ہوں گی۔

دفعہ 4:  کسی اخباری ملازم کی ملازمت کو کسی بھی اخباری ادارے کی طرف سے ختم نہیں کیا جائے گا، جب تک کہ کوئی معقول وجہ تحریری نوٹس کے ذریعہ نہ دی جائے۔

تحریری نوٹس کی مدت درج ذیل ہوگی:

الف)  اگر اخباری ملازم کی مستقل ملازمت کی مجموعی مدت تین ماہ سے کم نہیں مگر دو سال سے کم ہو تو ایک ماہ کا نوٹس؛

ب)  اگر یہ مدت دو سال سے کم نہیں مگر تین سال سے کم ہو تو دو ماہ کا نوٹس؛

ج)   اگر یہ مدت تین سال یا اس سے زیادہ ہو تو تین ماہ کا نوٹس؛

بشرطیکہ: اگر اخباری ملازم کے تقرری کے حکم میں اس سے زیادہ مدت کا نوٹس دیا گیا ہو، تو نوٹس اسی مدت کے مطابق دینا لازم ہوگا۔

مزید بشرطیکہ: اخباری ملازم کی ملازمت کو مطلوبہ نوٹس کے بدلے واجب الادا تنخواہ کی ادائیگی کے ذریعہ کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ 5:  (1)     ہر اخباری ادارہ اپنے ملازمین کے فائدے کے لئے ایک پروویڈنٹ فنڈ قائم کرے گا، جو درج ذیل طریقہ سے مقرر کیا جائے گا۔

             (2)   پروویڈنٹ فنڈ کا انتظام ایک بورڈ آف ٹرسٹیز کے ذریعے سنبھالا جائے گا، جس میں اخباری ادارے اور اس کے اخباری ملازمین کے برابر نمائندے ہوں گے، اور ان کی تقرری مقررہ طریقے کے مطابق کی جائے گی۔

      (3)      ہر اخباری ملازم، کسی اخباری ادارے میں دو سال کی ملازمت مکمل کرنے کے بعد، ہر ماہ اپنی تنخواہ کا کم از کم 6.25 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 10 فیصد پروویڈنٹ فنڈ میں جمع کرائے گا، اور ادارہ بھی اسی تناسب سے اتنی ہی رقم اس فنڈ میں جمع کرائے گا۔

(4)          ملازمت کے ابتدائی تین ماہ کے دوران، اخباری ملازم اپنی مرضی سے پروویڈنٹ فنڈ میں جمع کرا سکتا ہے یا نہیں، اور اگر وہ جمع کرائے، تو ادارہ بھی اتنی ہی رقم جمع کرائے گا۔

 (5)کسی بھی اخباری ادارے کو پروویڈنٹ فنڈز ایکٹ، 1925 کے مقاصد کے لئے ایک عوامی ادارہ تصور کیا جائے گا۔

دفعہ 6۔ فیکٹریز ایکٹ، 1934، اور اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے یا تصور کئے گئے کسی بھی قواعد کے تابع، کسی بھی اخباری ادارے میں کسی بھی اخبار کے ملازم سے ہفتے میں بیالیس گھنٹوں سے زیادہ کام لینا لازم نہیں ہوگا، کھانے کے وقفے کے وقت کے علاوہ۔

تشریح — اس دفعہ کے مقاصد کے لئے “ہفتہ” سے مراد ہفتے کے دنوں کی وہ مدت ہے جو ہفتہ کی درمیانی رات سے شروع ہوتی ہے۔

دفعہ 7-ان تعطیلات کے علاوہ جو وقتاً فوقتاً مقرر کی جائیں گی، ہر اخباری ملازم کو درج ذیل رخصتوں  کا حق حاصل ہوگا:

الف) مکمل اجرت کے ساتھ سال بھر میں جتنی مدت اس نے ڈیوٹی پر صرف کی، اس کا کم از کم گیارہواں حصہ سالانہ رخصت کے طور پر؛

ب)  طبی سند پر رخصت، نصف اجرت کے ساتھ، جو اس کی مجموعی ملازمت کی مدت کا کم از کم اٹھارہواں حصہ ہو، بشرطیکہ تقویمی  سال میں کم از کم دس دن کی چھٹی ملے؛

ج) تقویمی  سال میں پندرہ دن کی اتفاقیہ رخصت معہ اجرت۔

دفعہ 8 (1)-  ہر اخباری ملازم کو، اپنے زیرِ کفالت افراد سمیت، اُس اخباری ادارے کے خرچ پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی جہاں وہ ملازم ہو یا جس سے اس کا تعلق ہو۔

(2)  طبی سہولیات، جو اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے قواعد کے تابع ہوں گی، درج ذیل کو شامل کریں گی:

الف) کسی رجسٹرڈ طبی ماہر (جو میڈیکل کونسل آرڈیننس، 1960 کے تحت رجسٹرڈ ہو) سے علاج و معالجہ، چاہے وہ ماہر کے کلینک پر ہو یا ملازم کی رہائش گاہ پر؛

ب) اسپتالوں میں ماہرین کے ذریعے علاج و معالجہ اور ایسے ماہرین کے ذریعے بھی جو اسپتال سے باہر دستیاب ہوں؛

ج) وہ ضروری ادویاتی اشیاء جو اوپر بیان کردہ ماہرین کی طرف سے تجویز کی جائیں؛

د) جہاں ضروری ہو، وہاں داخلے (اسپتال میں داخلے) کی سہولت۔

(3) طبی سہولیات فراہم کرنے کا طریقہ اور اس کا دائرہ وہ ہوگا جو مقررہ قواعد کے مطابق بیان کیا جائے گا۔

وضاحت: اس دفعہ کے تحت “زیرِ کفالت افراد” سے مراد وہ افراد ہیں جو اخباری ملازم کے ساتھ رہائش پذیر اور مکمل طور پر اس پر انحصار کرتے ہوں، مثلاً:

  • شریکِ حیات
  • بیوہ ماں
  • جائز بیٹے اور بیٹیاں، جن میں سوتیلے بیٹے اور سوتیلی بیٹیاں بھی شامل ہیں۔

دفعہ 9 ۔(1) جب کبھی وفاقی حکومت یہ ضروری سمجھے، وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعہ، اس ایکٹ کے تحت اخباری ملازمین کی اجرتیں مقرر کرنے کے لیے ایک اجرت بورڈ (Wage Board) قائم کر سکتی ہے۔

 (2) بورڈ میں ایک چیئرمین شامل ہوگا جسے وفاقی حکومت نامزد کرے گی۔ چیئرمین ایسا شخص ہوگا جو یا تو پہلے ہائی کورٹ کا جج رہا ہو، یا ہے، یا پھر جج بننے کا اہل ہو۔

اس کے علاوہ، بورڈ میں اتنے اراکین شامل ہوں گے جتنے چیئرمین کو مشورہ دینے کے لئے وفاقی حکومت مقرر کرے،

بشرطیکہ ان اراکین میں نصف نمائندگی اخباری ملازمین کی ہو اور نصف نمائندگی اخباری اداروں کے مالکان یا ان کے نمائندوں کی ہو۔

 ((3 :بورڈ اپنی تشکیل کے دن سے ایک سو اسی (180) دن کی مدت کے اندر اپنا فیصلہ دے گا۔

دفعہ 10: (1)جب بورڈ اخباری ملازمین کی اجرت کی شرح مقرر کرے گا تو وہ درج ذیل امور کو مدنظر رکھ سکتا ہے:

  • مصارف زندگی
  • دیگر موازنہ کی جانے والی ملازمتوں میں رائج اجرت کی شرحیں
  • ملک کے مختلف علاقوں میں اخباری صنعت سے متعلق حالات
  • اور وہ کوئی بھی دیگر متعلقہ امور جنہیں بورڈ موزوں سمجھے

(2) بورڈ وقت کی بنیاد پر کام، اور ٹھیکہ کے کام  (piece work) کی بنیاد پر بھی اجرت کی شرح مقرر کر سکتا ہے۔

(3) اجرت کی شرح مقرر کرنے سے متعلق بورڈ کا فیصلہ جلد از جلد وفاقی حکومت کو بھیج دیا جائے گا۔

دفعہ 11: (1)وفاقی حکومت کو بورڈ کا فیصلہ موصول ہونے کے ایک ماہ کے اندر، اسے مقررہ طریقے سے شائع کیا جائے گا۔

(2) جو فیصلہ شق (1) کے تحت شائع کیا گیا ہو، وہ اس تاریخ سے نافذ العمل ہوگا جو فیصلے میں بیان کی گئی ہو۔

اگر کوئی تاریخ بیان نہیں کی گئی تو یہ اشاعت کی تاریخ سے نافذ العمل تصور ہوگا، اور یہ اس وقت تک مؤثر رہے گا جب تک کہ بورڈ کا کوئی بعد میں شائع شدہ فیصلہ اسے تبدیل یا ترمیم نہ کرے۔

دفعہ 12:دفعہ 11 کے تحت شائع ہونے والا بورڈ کا فیصلہ، قومی صنعتی تعلقات کمیشن کے فل بینچ (Full Bench) کے ایک ایوارڈ کے مساوی تصور کیا جائے گا،

اور اس ایکٹ کی دیگر دفعات کے تابع، آرڈیننس کی وہ تمام دفعات جو ایسے ایوارڈ پر لاگو ہوتی ہیں،

خصوصاً دفعہ 51 اور 55، وہ مناسب ترمیمات کے ساتھ بورڈ کے فیصلے پر بھی لاگو ہوں گی۔

وضاحت:شک و شبہ کے ازالے کے لیے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ عامل صحافیوں کے لئے دوسرے اجرت بورڈ (Second Wage Board) کا فیصلہ، جو 7 جنوری 1970 کو مغربی پاکستان کے گزٹ کے غیر معمولی شمارے میں شائع ہوا تھا،ایسا تصور کیا جائے گا جیسے اسے آرڈیننس کے تقاضوں کے مطابق شائع کیا گیا ہو۔

دفعہ12/الف (1)وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے ایک یا زائد اراکین پر مشتمل ایک ٹریبونل قائم کر سکتی ہے تاکہ دفعہ 11 کے تحت بورڈ کے فیصلے پر عمل درآمد کروایا جا سکے۔

(2) ٹریبونل کے چیئرمین اور اراکین کو وفاقی حکومت مقرر کرے گی، اور ان کی تقرری ایسی شرائط و ضوابط کے تحت ہوگی جو حکومت طے کرے گی۔

(3) اگر ٹریبونل صرف ایک رکن پر مشتمل ہو تو وہی رکن اس کا چیئرمین ہوگا؛

اور اگر اراکین کی تعداد ایک سے زیادہ ہو تو وفاقی حکومت کی طرف سے نامزد کردہ رکن چیئرمین ہوگا۔

(4) ٹریبونل کا چیئرمین وہ شخص ہوگا جو یا تو ہائی کورٹ کا جج رہا ہو، یا ہے، یا اس عہدے کے لیے اہل ہو۔

(5) ٹریبونل کے رکن بننے کی اہلیت وفاقی حکومت طے کرے گی۔

دفعہ 13: (1)آرڈیننس کی دفعہ 64 میں موجود کسی بھی بات کے باوجود، ٹریبونل کو درج ذیل اختیارات حاصل ہوں گے:

الف) اگر کوئی جرم بورڈ کے کسی فیصلے پر عملدرآمد میں ناکامی سے متعلق ہو، تو ٹریبونل کو آرڈیننس کی دفعہ 55 کے تحت قابل سزا جرم کا مقدمہ سننے کا اختیار ہوگا؛

ب) ٹریبونل، خود اپنی طرف سے یا کسی فریق کی درخواست پر، کسی بھی عدالت (سوائے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے) سے اس جرم سے متعلق کوئی درخواست، کارروائی یا اپیل واپس لے سکتا ہے اور اس کا فیصلہ کر سکتا ہے؛

ج) وہ ایسی کوئی درخواست، کارروائی یا اپیل کسی موزوں عدالت کو بھی منتقل کر سکتا ہے تاکہ وہ اس کا فیصلہ کرے۔

(2) وہ عدالت جسے شق (1) کےجز(ج) کے تحت کوئی درخواست، کارروائی یا اپیل منتقل کی جائے، وہ اس معاملے کو ایسے سنے گی اور اس پر فیصلہ کرے گی جیسے وہ معاملہ ابتدائی طور پر اسی عدالت میں دائر یا شروع کیا گیا ہو۔

(3) ٹریبونل اس جرم کے مقدمے کی سماعت کے لیے وہی طریقہ اختیار کرے گا اور وہی اختیارات استعمال کرے گا جیسے کہ آرڈیننس کے تحت جرم کی سماعت کے لیے فراہم کیے گئے ہیں،

اور آرڈیننس کی تمام دفعات (سوائے دفعہ 22A کی شق 9 کے)، مناسب تبدیلیوں کے ساتھ ایسے مقدمے پر لاگو ہوں گی۔

(4) ٹریبونل کو وہی ہدایات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جو لیبر کورٹ کو آرڈیننس کی دفعہ 51 کی شق (1) کے تحت حاصل ہے۔

(5) مقرر کردہ ضوابط کے تابع، ٹریبونل، کسی اخباری ادارے کی درجہ بندی یا کسی اخباری ملازم کے گریڈ کے تعین یا بورڈ کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقصد کے لیے انکوائری کرنے کے لیے وہی اختیارات استعمال کر سکتا ہےاور وہی طریقہ کار اختیار کر سکتا ہے، مناسب تبدیلیوں کے ساتھ، جو کہ کمیشن کو کسی صنعتی تنازع کے فیصلے کے لئے حاصل ہیں۔

(6) ٹریبونل کسی اخباری ادارے کو ایک اعلامیہ مخصوص شکل میں جمع کروانے اور ایسی معلومات فراہم کرنے کا حکم دے سکتا ہے جیسا کہ ٹریبونل طے کرے یا طلب کرے۔

دفعہ 13-الف:کوئی بھی شخص جسے ٹریبونل کی طرف سے آرڈیننس کی دفعہ 55 کے تحت کم از کم چھ ماہ کی قید کی سزا دی گئی ہو، وہ سپریم کورٹ کی اجازت سے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتا ہے۔

دفعہ 13-ب: (1)ٹریبونل کا چیئرمین اس کے تمام امور پر عمومی نگرانی کا اختیار رکھے گا۔

(2) اگر ٹریبونل کے ارکان ایک سے زیادہ ہوں، تو:

الف) چیئرمین، ٹریبونل کے ایک یا زیادہ ارکان پر مشتمل جتنی چاہے بنچیں قائم کر سکتا ہے، جیسا وہ مناسب سمجھے؛

ب) اگر کوئی رکن، جو کسی بنچ کا حصہ ہو، کسی اجلاس میں غیر حاضر ہو یا کسی وجہ سے شرکت نہ کر سکے، تو ٹریبونل کا چیئرمین خود اس بنچ کی صدارت سنبھال سکتا ہے۔

دفعہ 14:کسی بھی مقرر کردہ قواعدِ کار کے تابع، بورڈ، اجرتوں کی شرح مقرر کرنے کے لیے، وہی اختیارات استعمال کر سکتا ہے اور وہی طریقۂ کار اختیار کر سکتا ہے، مناسب تبدیلیوں کے ساتھ، جو کمیشن صنعتی تنازع کے فیصلے کے لیے اختیار کر سکتا ہے۔

دفعہ 15:بورڈ کا فیصلہ تمام اخبارات کے اداروں کے مالکان پر لازم ہوگا، اور ہر اخباری ملازم کو ایسی اجرت دی جائے گی جو کسی بھی صورت میں بورڈ کی مقرر کردہ اجرت سے کم نہ ہو۔

دفعہ 16: (1)اس قانون میں موجود کسی بات کے باوجود، اگر بورڈ مناسب سمجھے تو وہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اخباری ملازمین کے لیے عبوری اجرت کی شرح مقرر کر سکتا ہے۔

(2) ایسی مقرر کردہ عبوری اجرت تمام مالکان پر لازم ہوگی، اور ہر اخباری ملازم کو ایسی اجرت دی جائے گی جو کسی بھی صورت میں اس عبوری شرح سے کم نہ ہو۔

(3) یہ عبوری شرح اس وقت تک نافذ العمل رہے گی جب تک بورڈ کا حتمی فیصلہ دفعہ 11 کی ذیلی دفعہ (2) کے تحت نافذ العمل نہ ہو جائے۔

دفعہ 16الف-: بورڈ اور ٹریبونل کو اپنی توہین پر وہی سزا دینے کا اختیار حاصل ہوگا جو کمیشن کو آرڈیننس کی دفعہ 22C کے تحت حاصل ہے۔

دفعہ 17: مغربی پاکستان صنعتی و تجارتی ملازمت (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس، 1968 کی تمام دفعات (سوائے اسٹینڈنگ آرڈر 2 اور آرڈر 12 کی شقوں 1 اور 2 کے)، ایسے تمام اخباری اداروں پر لاگو ہوں گی جہاں 10 یا اس سے زائداخباری ملازمین کام کرتے ہیں، اور ایسے ادارے کو ایسا صنعتی ادارہ تصور کیا جائے گا جیسا کہ آرڈیننس کی دفعہ 1 کی ذیلی دفعہ (4) کی شق (c) کے تحت نوٹیفکیشن کے ذریعے لاگو کیا گیا ہو۔

توضیح: اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ اسٹینڈنگ آرڈر 10B، 11، 12 کی شقیں (6) اور (8)، اور آرڈر 15 صرف ان اداروں پر لاگو ہوں گے جو ان میں دی گئی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔

دفعہ 18:اس قانون کی دیگر دفعات کے تابع، آرڈیننس کی دفعات اخباری ملازمین پر اسی طرح لاگو ہوں گی جیسے وہ ” کارکنوں” پر لاگو ہوتی ہیں۔

بشرطیکہ: اس دفعہ کا اطلاق ایسے اخباری ملازمین پر نہیں ہوگا:

(i) جو بنیادی طور پر انتظامی یا منیجریل حیثیت میں کام کرتے ہوں یا اخبار کے ایڈیٹر ہوں؛

(ii) یا جو نگران (سپروائزری) حیثیت میں کام کرتے ہوں لیکن ان کے فرائض یا اختیارات بنیادی طور پر منیجریل نوعیت کے ہوں۔

دفعہ 19: (1) اس قانون کی دفعات کسی دوسرے قانون، ایوارڈ، معاہدے یا ملازمت کے کنٹریکٹ سے متصادم ہونے کی صورت میں، اس قانون کی دفعات کو بالادستی حاصل ہوگی، خواہ وہ معاہدہ یا ایوارڈ اس قانون کے نفاذ سے پہلے یا بعد میں کیا گیا ہو۔

بشرطیکہ: اگر کسی اخباری ملازم کو کسی معاہدے یا دیگر ذرائع سے اس قانون سے زیادہ بہتر سہولیات حاصل ہوں تو وہ اُن بہتر سہولیات سے محروم نہ ہوگا، خواہ وہ دیگر سہولیات اس قانون کے تحت حاصل کرے۔

(2) اس قانون کی کوئی بھی بات اخباری ملازم کو ایسے معاہدے کرنے سے نہیں روکتی جس میں اسے اس قانون سے زیادہ سہولیات دی جائیں۔

دفعہ 20:(1) وفاقی حکومت، سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعہ، مناسب افراد کو اس قانون کے مقاصد کے لیے انسپکٹر مقرر کر سکتی ہے اور ان کے دائرہ کار کا تعین کر سکتی ہے۔

(2) انسپکٹر اپنے دائرہ کار میں بورڈ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق وہ تمام فرائض انجام دے گا جو مقرر کیے جائیں گے۔

(3) انسپکٹر کو درج ذیل اختیارات حاصل ہوں گے:

الف) موزوں اوقات میں کسی اخباری ادارے کے دفتر کا معائنہ کرنا، ریکارڈ یا دستاویزات کا جائزہ لینا اور متعلقہ گواہوں سے بیانات لینا؛

ب) دیگر معائنے کے اختیارات جو اس قانون کے مقاصد کے لیے ضروری ہوں۔

دفعہ 21(1):جو شخص دفعہ 6 کی خلاف ورزی کرے گا، وہ دو ہزار روپے تک جرمانے کا مستحق ہوگا۔

(2) اس قانون یا اس کے تحت بنائے گئے کسی قاعدے کی خلاف ورزی پر (اگر کسی اور سزا کا ذکر نہ ہو) ایک ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

(3) اگر جرم کسی کمپنی یا کارپوریشن نے کیا ہو تو اس کے ہر ڈائریکٹر، منیجر، سیکریٹری یا افسر کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اسے جرم کا علم نہیں تھا یا اس نے روکنے کے لیے پوری کوشش کی۔

(4) اس قانون کے تحت کسی جرم کی شکایت پر عدالت اس وقت تک کارروائی نہیں کرے گی جب تک شکایت جرم کے وقوعہ کے چھ ماہ کے اندر نہ کی گئی ہو۔

[دفعہ -21-الف-بورڈ کے چیئرمین، اور ٹریبونل کے چیئرمین و ارکان کو  تعزیرات پاکستان کی دفعہ 21 کے تحت “پبلک سرونٹس” سمجھا جائے گا۔

دفعہ 22:کسی بھی شخص یا اتھارٹی کے خلاف کوئی مقدمہ، قانونی چارہ جوئی یا کارروائی نہیں کی جائے گی، اگر اس نے نیک نیتی سے اس قانون یا اس کے تحت بنائے گئے قاعدے کے مطابق کوئی عمل کیا ہو یا کرنے کا ارادہ رکھا ہو۔

دفعہ 23: (1)وفاقی حکومت اس قانون کے مقاصد کے حصول کے لئے قواعد بنا سکتی ہے۔

(2) ان قواعد میں خاص طور پر درج ذیل امور شامل ہو سکتے ہیں:

الف) اخباری ملازمین کے اوقات کار؛

ب) تعطیلات، میڈیکل رخصت، عمومی رخصت وغیرہ؛

ج) پروویڈنٹ فنڈ کا قیام؛

د) پروویڈنٹ فنڈ کے نظم و نسق کے لئے بورڈ آف ٹرسٹیز کا قیام؛

ہ) فنڈ کے انتظام و انصرام کا طریقہ کار؛

و) اجرتوں کی شرح مقرر کرنے کا بورڈ کا طریقہ کار؛

ز) بورڈ کے فیصلے کی اشاعت کا طریقہ؛

ژ) ٹریبونل کے ذریعہ اخباری اداروں کی درجہ بندی، ملازمین کے گریڈ کے تعین اور انکوائری کے لئے طریقہ کار؛

س) دیگر متعلقہ امور جو مقرر کئے جا سکتے ہوں۔

دفعہ 23-الف: اس قانون کے تحت وفاقی حکومت کو حاصل اختیارات 14 اگست 1973 سے وفاقی حکومت ہی استعمال کرتی رہے گی۔

دفعہ 24: (1)عامل صحافیوں کی ( شرائط ملازمت) آرڈیننس 1960 منسوخ کیا جاتا ہے۔

(2) مذکورہ آرڈیننس کی منسوخی کے باوجود، اور جنرل کلازز ایکٹ 1897 کی دفعہ 24 کے تحت، آرڈیننس کے تحت کیا گیا کوئی بھی کام، تقرری، نوٹیفکیشن، حکم، قاعدہ، فارم، کارروائی یا اقدام، اگر یہ اس نئے قانون سے متصادم نہ ہو، تو وہ برقرار رہے گا اور اسے اس قانون کے تحت کیا گیا سمجھا جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں