mujhe khawateen ki koi kami nahi

ٹی وی شوپری پلانٹڈ تھا، خلیل الرحمن قمر۔۔

معروف مصنف خلیل الرحمٰن قمر نے گزشتہ سال ہونے والے ٹی وی شو کو پری پلانٹڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ساحل عدیم کے ساتھ اس پروگرام میں جان بوجھ کر بدتمیزی کی گئی۔خلیل الرحمٰن قمر نے حال ہی میں ’دی بلو ٹرتھ ڈیجیٹل‘ پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر کھل کر گفتگو کی۔پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی فنکاروں کی خاموشی پر خلیل الرحمٰن قمر نے کہا کہ جو لوگ اس معاملے میں خاموش رہے، وہ بے غیرت ہیں، اگر ان کا خیال ہے کہ خاموش رہنے سے انہیں بھارت میں کام مل جائے گا تو انہیں وہیں چلے جانا چاہیے۔پوڈکاسٹ کے دوران خلیل الرحمٰن قمر نے گزشتہ سال خبروں میں رہنے والے ٹی وی شو میں ہونے والے تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پلانٹڈ تھا، جس کا مجھے علم نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران جب ساحل عدیم خواتین کو جاہل کہہ رہے تھے تو میں انہیں ٹوکنے ہی والا تھا کہ آپ سب کو جاہل نہیں کہہ سکتے، کیونکہ میرے نزدیک تو وہ انسان جاہل ہے جس نے قرآن کو ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھا اور اس میں مرد بھی شامل ہیں لیکن میرے ٹوکنے سے پہلے ہی وہ لڑکی بول پڑی۔اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پروگرام کے دوران جو بات مجھے حیران کن لگی وہ یہ تھی کہ ایک خاتون عالم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کررہی تھی، ساحل عدیم ایک بڑے اسکالر ہیں جنہیں میں پسند کرتا ہوں۔خلیل الرحمٰن قمر کے مطابق اس پروگرام میں ساحل عدیم کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، وہ بھی ایک انسان ہیں اور غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں، یہی بات مجھے غصہ دلانے کا باعث بنی اور وہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔یاد رہے کہ ساحل عدیم نے پچھلے سال جون کے آخری ہفتے میں سماء ٹی وی پر نشر ہونے والے عائشہ جہانزیب کے پروگرام میں بحث کے دوران ملک کی 95 فیصد خواتین جبکہ محض 25 فیصد مردوں کو جاہل قرار دیا تھا۔ ملک کی 95 فیصد خواتین کو جاہل قرار دیے جانے پر پروگرام میں موجود ایک لڑکی نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے ان سے پروگرام کے دوران ہی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔اسی پروگرام کے دوران موٹیویشنل اسپیکر اور مذکورہ لڑکی کے درمیان بحث کے وقت ڈراما ساز خلیل الرحمٰن قمر بھی درمیان میں آگئے اور انہوں نے لڑکی کو جھاڑ پلادی۔اس واقعے کے بعد ساحل عدیم، خلیل الرحمٰن قمر اور پروگرام کی میزبان عائشہ جہانزیب کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں