social media naya sahafati platform

نیک نامی یا بدنامی، فیصلہ آپ کا۔۔

تحریر: سید بدرسعید۔۔

مشہوری کے دو نام ہیں۔۔ایک نیک نامی دوسرا بدنامی۔۔انسان کچھ کر دکھائے تو مشہور ہو جاتا ہے ، بدنام ہو جائے تو اس سے بھی زیادہ مشہور ہو جاتا ہے۔یہی صورت حال ریٹنگ کی ہے۔۔۔

آپ کسی ایک جملے ، ایک انداز یا ایک کلپ کی وجہ سے مشہور ہو سکتے ہیں ۔ ملین ویوز ، شیئرنگ ، آپ لوڈنگ اور ڈسکشن یہ سب آپ کی کارکردگی نہیں ہے ۔ ایک اداکارہ نے بھارت میں  کپڑے اتار کر ٹیٹو بنوا لیا ، ایک دن سے  ٹرینڈنگ میں آ گئی ۔ یہ بدنامی تھی

ایک  لڑکی نے غلط اردو بولتے ہوئے پاڑی ہو رہی ہے کہا اور سوشل میڈیا ریٹنگ کے ٹاپ ٹرینڈ میں پہنچ گئی ، کچھ ٹک ٹاکرز کی نامناسب ویڈیوز وائرل ہو گئیں ، ان کے ویوز بڑھ گئے ، کچھ نے انہیں فالو کرنے کے چکر میں خود اپنے کلپ وائرل کروا دیے ، ان کے بھی فالور بڑھ گئے ۔ مجھے کچھ ایسی شخصیات نے خود کہا کہ اگر ہم آپ کو کچھ کلپ بنا دیں اور آپ صحافیوں کے واٹس ایپ گروپس میں وائرل کر سکیں گے ؟ کچھ نے کہا کہ انٹرویو کے دوران ایسی باتیں یا سوال کر لینا جس پر فحش یا بولڈ جواب بن جائے تو آپ کو بھی۔ ریٹنگ مل جائے گی

میں نے ان سے بچنے کی کوشش کی کیونکہ مجھے یقین ہے کانٹنٹ ان سب کا محتاج نہیں ہوتا

یہ ساری کہانی شہرت کی ہے ، ریٹنگ اور ویوز گیم کی ہے لیکن یہ بدنام ہونے سے ملنے والی شہرت ہے

ایک لمحہ کے لیے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں

وہ ٹک ٹاکرز ،وہ سلیبریٹیز جنہوں نے یہ ہتھکنڈے اپنائے آج کہاں ہیں ؟

کیا پاڑی ہو رہی ہے والی خاتون کو آپ کسی قابلیت کی بنیاد پر جانتے ہیں ؟ انڈیا میں نیوڈ فوٹو شوٹ کروانے والی اداکارہ کے کریڈیٹ پر کوئی ایک کامیاب ڈرامہ یا پروگرام ہے ؟

یہاں تک کہ “پروگرام تو وڑ گیا ” کہنے والے سیاست دان کو لوگ سنجیدہ سیاست دان سمجھتے ہیں یا ان کی بات کو اہمیت دیتے ہیں ؟

کیا چاہتے فتح علی خان کو ان کی تمام تر محنت کے باوجود آپ اچھا گلوکار تسلیم کرنے کو تیار ہوئے ؟

یہ سب اپنی بدنامی کو “ریٹنگ” سمجھتے رہے .

لوگ سمجھتے رہے کہ ویوز گیم کا چکر ہے اس سے بدنام بھی ہو جائیں تو ڈالرز ملتے ہیں

ہم جیسے چیختے رہے کہ ویوز کی گیم اتنی بڑی نہیں ہوتی کہ آپ امیر ہو جائیں ،آپ کو برانڈنگ سے پیسے ملتے ہیں

اب کہانی کھل رہی ہے ۔

جن یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کو لوگ یوٹیوب کی وجہ سے امیر سمجھتے تھے وہ جوئے ایپس اور غیر قانونی دھندوں میں ملوث نکلے ۔ یوٹیوب اور ٹک ٹاک محض ایک شیلٹر تھا ۔  ادارے یکے بعد دیگر ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں ۔

کرمنل مائینڈ کے یہ لوگ اس قوم کے نوجوانوں کے آئیڈیل بن رہے تھے لیکن جلد ہی ایکسپوز ہوتے چلے گئے

ان کی کہانیاں کیا ہیں ۔ فلاں لڑکی نے لڑکے کو لوٹ لیا ، مہنگے گفٹ لے کر اب ساتھ چھوڑ دیا اور پرچہ کروا دیا ہے ۔ یعنی یہ قابل فخر کارنامے ہیں

اسی طرح مردوں کے موضوعات ایک دوسرے کے بچوں  کے ڈی این اے کروانے تک پہنچ چکے ہیں

کیا یہ انسپائرنگ ہیں

اگر محض مشہور ہی ہونا ہے تو شہر کی طوائف زیادہ مشہور ہوتی ہے ۔

لیکن یہ کام تو تم نہیں کر سکو گے نا ؟

تو پھر ریٹنگ کے چکر میں ایسا کانٹنٹ نہ بناؤ جسے دیکھ کر لوگ کسی طوائف سے موازنہ کرنے لگیں کہ اس کے کانٹنٹ اور تمہارے کانٹنٹ میں زیادہ فرق تو نہیں ہوتا ۔آپ طوائف نہیں ہو۔۔

تو پھر ڈیجیٹل کانٹنٹ جنریٹ کرتے وقت بھی یہ بات زہن میں رکھیں۔۔(سید بدر سعید)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں