نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف ملک گیر یوم سیاہ منانے کا اعلان۔۔

نیشنل پریس اسلام آباد میں وفاقی پولیس کی جانب سے توڑ پھوڑ اور صحافیوں پر تشدد کے خلاف صحافتی تنظیموں نے آج ( جمعہ) تین اکتوبر کو  یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ کا کہنا ہے نیشنل پریس کلب پر پولیس اہلکاروں کا حملہ تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا واقعہ کے خلاف  جمعہ کو پورے پاکستان میں یوم سیاہ منایا جائے گا، ملک بھر کے پریس کلبوں پر سیاہ پرچم لہرائے جائے گا اور احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے فیصلے کی حمایت کی ہے۔نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج اور ریلی میں صحافیوں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا اور پولیس مخالف نعرے بازی کی۔پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے احتجاج سے خطاب میں کہا کہ آج کا دن سیاہ ترین دنوں میں شا مل ہے، پریس کلب پر حملہ پریس کی آزادی پر حملہ ہے، اس حملے میں 3500 ممبرز کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے، یہ حملہ 40،000 صحافیوں پر حملہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس گردی پر کل یوم سیاہ منایا جارہا ہے، آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے صحافتی کمیونٹی سے مشاورت کررہے ہیں۔احتجاج سے نیشنل پریس کلب کی جنرل سیکریٹری نیئر علی اور آر آئی یو جے کے صدر طارق وزرک نے بھی خطاب کیا اور نیشنل پریس کلب میں پولیس کاروائی کی شدید مذمت کی۔نیشنل پریس کلب پر پولیس کے حملے اور صحافیوں پر تشدد کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی یوم سیاہ کی کال پر جمعہ 3 اکتوبر شام ساڑھے 5 بجے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج ھوگا سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے احتجاج میں کراچی یونین آف جرنلسٹس ایپنک سول سوسائٹی اور مزدور تنظیموں کے کارکنان شرکت کریں گے۔صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) افضل بٹ نے کہا ہے کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس اہلکاروں کا حملہ تاریخ کا بدترین اور سیاہ ترین واقعہ ہے۔اسلام آباد پریس کلب میں پولیس اہلکاروں کے زبردستی گھسنے، صحافیوں اور ملازمین پر تشدد کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے مارشل لا، ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس دیکھی، اُس دور میں بھی ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔پولیس یا ریاستی اداروں کو مطلوب شخص اگر پریس کلب کے اندر آجائے تو قانون نافذ کرنے والے اہلکار باہر کھڑے رہتے تھے، تاکہ مطلوبہ شخص باہر نکلے اور وہ قانونی کارروائی مکمل کریں۔انہوں نےکہا کہ آج کا یہ واقعہ معمولی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے پریس کلب کے اندر داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا، کچن میں گھس کر برتن توڑے، اس دوران وہاں موجود فوٹو گرافرز او ویڈیو جرنلسٹس پر تشدد کرتے رہے۔افضل بٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بات کرنے کے بجائے کلب انتظامیہ اور عہدے داروں پر ہی تشدد شروع کر دیا۔صدر پی ایف یو جے نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں نے مذکورہ اہلکاروں کو روکنے کی کوشش کی تو ان پر اور کلب ملازمین پر بھی تشدد کیا گیا، جبکہ تشدد کرنے والے اہلکار جاتے ہوئے 2 ملازمین کو بھی گرفتار کر کے ساتھ لے گئے، جنہیں بعد میں چھڑوا لیا گیا۔افضل بٹ کا کہنا تھا کہ افسوس ناک واقعے کے خلاف ہنگامی اجلاس کی کال دی ہے، مشاورت کے ساتھ مستقبل کا لاٗئحہ عمل اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف حکومتی کارروائی پر بات کریں گے، پریس کلب کے اس بدترین واقعے پر آنکھیں بند کر دیں تو دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مزید کہا کہ پریس کلب صحافیوں کا دوسرا گھر ہوتا ہے، اہلکار ہمارے گھر میں گھسں کر توڑ پھوڑ اور تشدد کریں، اس کی اجازت نہیں دیں گے۔اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نےکہا کہ اس واقعے پر ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے انٹرنل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں