sahafio ki hifazat ke hawale se tarbeyati workshop ka ineqad

نیشنل پریس کلب الیکشن، جرنلسٹ پینل کو اپ سیٹ کا سامنا۔۔۔

نیشنل پریس کلب میں جرنلسٹ پینل کو اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔حریف  ڈیموکریٹک پینل نے صدر اور سیکرٹری سمیت دو نائب صدر کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی جب کہ جرنلسٹ پینل نے فنانس سیکرٹری، تین جوائنٹ سیکرٹری، ایک جوائنٹ سیکرٹری فی میل اور نائب صدر فی میل کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔۔ گورننگ باڈی کی سترہ نشستوں پر گنتی کا عمل اتوار کو ہوگا۔۔نیشنل پریس کلب کی طویل عرصے سے قائم قیادت کا توازن جمعہ کی رات اس وقت بدل گیا جب ڈیموکریٹس پینل نے اہم عہدے جیت لیے اور یوں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری جرنلسٹ پینل کی بالادستی کا خاتمہ ہو گیا۔اگرچہ پولنگ باضابطہ طور پر جمعرات کی رات 10 بجے ختم ہو گئی تھی، تاہم انتخابی نتائج جمعہ کی رات دیر تک غیر واضح رہے، جس سے شفافیت اور انتظامی کارکردگی کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس پینل کے عبدالرزاق سیال نے 1,067 ووٹ لے کر صدر کا عہدہ جیت لیا اور جرنلسٹ پینل کے نیئر علی کو معمولی فرق سے شکست دی، جنہوں نے 1,052 ووٹ حاصل کیے۔ ڈاکٹر فرقان راؤ سیکریٹری کے عہدے پر کامیاب قرار پائے۔نمایاں امیدوار اسد طور، جنہیں ڈیموکریٹس پینل کی جانب سے نائب صدر کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا، 974 ووٹ لے کر چھ امیدواروں میں چوتھے نمبر پر رہے۔ نائب صدر کے عہدے کے لیے پہلی تین پوزیشنیں جرنلسٹ پینل کے احتشام الحق (1,202 ووٹ)، ڈیموکریٹس پینل کے بشیر چوہدری (1,076 ووٹ) اور ڈیموکریٹس پینل کے عثمان خان (1,015 ووٹ) نے حاصل کیں۔ دیگر امیدواروں میں جرنلسٹ پینل کے شاہ محمد (865 ووٹ) اور خضر ملک (808 ووٹ) شامل تھے۔نائب صدر (خواتین) کے مقابلے میں  سحرش  قریشی نے مرحوم صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کو معمولی فرق سے شکست دے دی۔ووٹوں کی گنتی میں طویل تاخیر پر صحافیوں اور امیدواروں دونوں نے تنقید کی۔ سوشل میڈیا پر عبوری نتائج اور انتخابی حکام کی جانب سے بروقت معلومات فراہم نہ کرنے کے باعث الجھن اور سوالات دیکھنے میں آئے۔ کئی مبصرین نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ تاخیر طریقۂ کار کی خامیوں کا نتیجہ تھی یا محض انتظامی نااہلی، اور بعض نے خبردار کیا کہ اس سے کلب کی گورننس پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صحافتی شفافیت پہلے ہی عوامی نگرانی میں ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹس پینل کی کامیابی کلب کے اراکین میں جرنلسٹ پینل کی کارکردگی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق کلب کی سہولیات کی عدم توجہ، اراکین سے محدود رابطہ، عہدیداروں کا حکومت سے مبینہ قربت کا تاثر، اور گزشتہ اکتوبر کے پولیس چھاپے کے بعد پینل کی خاموشی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ اس چھاپے کے دوران مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے صحافیوں پر حملہ کیا اور بغیر اجازت کلب میں داخل ہوئے تھے۔ڈیموکریٹس پینل نے اسی عدم اطمینان کو اپنی مہم کا محور بنایا اور احتساب، اصلاحات اور اراکین کا اعتماد بحال کرنے کے نعرے کے ساتھ بھرپور انتخابی مہم چلائی۔یہ نتائج نیشنل پریس کلب کی اندرونی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ جب قیادت اراکین کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے تو مضبوط سے مضبوط ادارے بھی اپنی گرفت کھو سکتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں