mulk mein sahafat ko jurm banadia gya

نادرخان پر ایف آئی اے کا مقدمہ، پریس کلب و صحافتی تنظیموں کی مذمت۔۔

کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے رکن، تحقیقاتی صحافی نادر خان کے خلاف درج مقدمے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار پر حملہ اور صحافت دشمن اقدام قرار دیا ہے۔جمعرات کو پریس کلب سے جاری  بیان میں  پریس کلب کے عہدیداروں نے کہاکہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)کی جانب سے سینئر صحافی نادر خان کے خلاف مقدمہ ایسے وقت درج کیا گیا ہے جب ملک کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اور قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ مذکورہ مقدمہ ایک ایسی خبر کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے جس میں پورٹ قاسم پر آنے والے جہاز کے حوالے سے مبینہ ایل پی جی اسمگلنگ کی تحقیقات کا ذکر کیا گیا تھا، جس پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کارروائی کر رہا ہے۔کراچی پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ مقدمہ مروجہ قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے بغیر نوٹس اور انکوائری کے درج کیا گیا، جو بظاہر ایک فرمائشی کارروائی محسوس ہوتی ہے۔ اس قسم کے اقدامات نہ صرف آزادی صحافت کو دبانے کی کوشش ہیں بلکہ حقائق سامنے لانے والے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے مترادف بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عجلت میں مقدمہ درج کرنا قانون کے غلط استعمال کا تاثر دیتا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ کراچی پریس کلب کے صدر، سیکریٹری اور مجلسِ عاملہ نے وزیرِ اعظم ، وفاقی وزیر داخلہ اور ایف آئی اے حکام سے مطالبہ کیا کہ نادر خان کے خلاف درج  مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ دریں اثنا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور ) کے صدر حاجی محمد نواز رضا، سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ اور ملک بھر میں موجود مجلس عاملہ کے اراکین نے کراچی یونین آف جرنلسٹس اور کراچی پریس کلب کے رکن، تحقیقاتی صحافی نادر خان کے خلاف فرمائشی مقدمے کی مذمت کی ہے اور اسے آزادی اظہار کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔صحافی نادر خان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں یہ مقدمہ ایسے  وقت درج کیا گیا ہے جب قوم کو جنگی حالات درپیش ہیں اور ملک داخلی طور پر کسی غیر یقینی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔مقدمہ ایک ایسی خبر کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس میں پورٹ قاسم پر آنے والے جہاز کو مبینہ طور پر ایران سے ایل پی جی گیس کی اسمگلنگ کی تحقیقات کے لئے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے روکا ہے اور اس کے عملے اور دستاویزات کی چھان بین جاری ہے۔این سی سی آئی اے نے یہ مقدمہ مروجہ طریقہ کار سے ہٹ کر بغیر نوٹس دیے اور انکوائری کیے درج کیا ہے جو فرمائشی مقدمہ معلوم ہوتا ہے۔ این سی پی آئی اے کا یہ اقدام  آزادی صحافت پر حملہ ہے اور حقائق سامنے لانے والے صحافی کو ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔ عجلت میں مقدمہ درج کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ اس سے قانون کے غلط استعمال کا بھی تاثر ملتا ہے۔پی ایف یو جے(دستور) وزیر اعظم سے مطالبہ کرتی ہے کہ نادر خان کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ موجودہ حالات میں حکومت اور صحافی آمنے سامنے نا ہوں۔علاوہ ازیں   کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصر اللہ چودھری اور سیکرٹری ریحان خان چشتی نے اپنے بیان میں  کہا کہ معاشرے میں موجود وائٹ کالر کرائم اور کرپشن کے معاملات کی رپورٹنگ صحافیوں کے فرائض منصبی میں شامل ہے ، صحافیوں کو اپنے کام سے روکنا اور انہیں مقدمات بناکر ہراساں کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ، سینئر صحافی نادر خان کے خلاف مقدمہ اٹھارہ مارچ کو شائع ایک خبر پر انتہائی عجلت میں قائم کیا گیا جو نہ صرف صحافیوں کی آواز دبانے کی  کوشش بلکہ جمہوری اقدار کے  منافی اور معاشرے میں سچ کی آواز کو کمزور کرنے کے مترادف بھی ہے، کے یوجے دستور اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کو شفاف طریقے سے دیکھا جائے، صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بجائے ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور آزادیٔ اظہار رائے کا احترام کیا جائے۔دوسری طرف کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کراچی سینئر تحقیقاتی صحافی  اور ممبر دی آر اے نادر خان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی میں درج  مقدمے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔نادر خان کے خلاف درج مقدمہ ایک ایسی خبر کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے جس میں پورٹ قاسم پر آنے والے جہاز “وینس 9” کے ذریعے مبینہ طور پر ایران سے ایل پی جی گیس کی اسمگلنگ کا انکشاف کیا گیا۔ مذکورہ جہاز کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی جانب سے روکا گیا ہے اور اس کے عملے اور دستاویزات کی چھان بین جاری ہے۔ خبر میں بااثر شخصیات کے نام سامنے آنے کے بعد متعلقہ افسران پر دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر صحافی کو نشانہ بنایا گیا۔ایسوسی ایشن کا ماننا ہے کہ یہ اقدام آزادی صحافت پر حملہ ہے اور حقائق سامنے لانے والے صحافی کو ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت عجلت میں مقدمہ درج کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ اس سے قانون کے غلط استعمال کا بھی تاثر ملتا ہے۔کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کراچی مطالبہ کرتی ہے کہ نادر خان کے خلاف درج مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور صحافیوں کو بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینے کی آزادی دی جائے۔ایسوسی ایشن اس معاملے پر بھرپور احتجاج، قانونی چارہ جوئی اور ہر فورم پر آواز اٹھانے کاحق محفوظ رکھتی ہے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں