سینئر اداکارہ منزہ عارف نے شادی کے بندھن میں بندھنے والے نئے شادی شدہ جوڑوں کو جلد بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمر ڈھلنے کے بعد بچے پیدا کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جن سے نوجوان بے خبر ہیں۔اداکارہ نے حال ہی میں سما ٹی وی کے مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے خواتین میں ہونے والی طبی پیچیدگیوں، مسائل اور شادی شدہ جوڑوں کے رویوں پر بھی بات کی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی دادی اور والدہ کا تعلق اس زمانے سے تھا جب ہر کسی کو خالص غذا دستیاب ہوتی تھی، وہ خالص غذا کھاتے تھے لیکن ان اور نئی نسل کا تعلق ایسے دور سے ہے جب غذا خالص نہیں رہی۔ان کے مطابق وہ بھی بچپن میں دودھ پینے اور دوسری خالص غذائیں کھانے سے گریز کرتی تھیں لیکن والدہ انہیں ڈانٹ کر بھی خالص غذائیں کھلاتی تھیں لیکن اب نئی نسل کی غذائی پسند بالکل مختلف ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل ڈرنکس اور تیار شدہ غذاؤں پر زیادہ انحصار کرنے لگی ہے، جس وجہ سے طبی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں۔منزہ عارف کے مطابق طبی ماہرین کہتے ہیں کہ جو شخص 20 سال کی عمر کے دوران اپنی خوراک اچھی رکھے گا، اسے 40 سال کی عمر کے بعد فائدہ ہوگا، ہر کسی کو اپنی صحت اور خوراک کا خیال رکھنا ہوگا۔منزہ عارف نے وقت اور عمر کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے شادی شدہ جوڑوں اور خصوصی طور پر لڑکیوں کو جلد بچے پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ لڑکیاں کیریئر اور اپنی زندگی کے مزے لوٹنے کے بہانے جلد بچے پیدا کرنے سے گریز کرتی ہیں لیکن ایسا کرنے سے بہتر تاخیر ہو چکی ہوتی ہے، پھر لڑکیوں کے ہاں حمل ٹھہرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔اداکارہ نے کہا کہ عمر ڈھلنے اور وقت گزرنے سے پہلے لڑکیوں کو بچے پیدا کرنے چاہیے، وقت گزر جانے کے بعد بہت مسائل ہوتے ہیں، پیدا ہونے والے بچے بھی صحت مند نہیں ہوتے جب کہ حمل ٹھہرنے میں بھی مشکلات آتی ہیں۔
