نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا ہے دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے، سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں، میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام آج اسلام آباد میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس سابق قائد اعوان شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں کی پہلی نشست ہوئی۔فواد چوہدری نے استقالیہ کلمات میں قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ایجنڈا اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر عمران اسماعیل، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، بیرسٹر سیف، محمود مولوی، سابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ ڈاکٹر وسیم شہزاد، بانی پی ٹی آئی کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی، شاہد خاقان عباسی، جنرل (ر) نعیم لودھی، فیصل چوہدری، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، شیر افضل مروت اور دیگر نے شرکت کی۔بیورو چیف ایکسپریس نیوز عامر الیاس رانا نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے طور پر خود کو بکاؤ کے طور پر پیش کیا، والیم 10 پر بہت پروگرامز ہوئے، آر اوز کے الیکشن کی بات ہوتی رہی، آر ٹی ایس سسٹم پر بات کی جاتی رہی جب کہ اصل فریق پاکستان کے عوام ہیں،رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس کا بیانیہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہے، جب کوئی اپوزیشن میں ہوتا ہے تو کہتا ہے سب کچھ تباہ ہو گیا، ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبوں کے مابین ہم آہنگی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔فواد چوہدری نے کمیٹی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی سینسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔کانفرنس میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہوگا۔
