میڈیا کو خارجہ پالیسی پر “سرخ لکیر” عبور نہ کرنے کی تنبیہ۔۔۔

پاکستان کے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے منگل کے روز صحافیوں، مبصرین اور سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے وقت آئینی “سرخ لکیروں” کو عبور نہ کریں، بصورت دیگر قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔منگل کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اظہارِ رائے کی آزادی کی حمایت کرتی ہے، تاہم یہ آزادی آئین میں مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کی جانی چاہیے۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی موجود تھے۔وزیر قانون نے کہا کہ عوام کو درست معلومات حاصل کرنے اور اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، لیکن خارجہ امور خصوصاً خلیجی ممالک یا حساس علاقائی معاملات سے متعلق تبصرہ کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنی ضروری ہے۔انہوں نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ شق اظہارِ رائے کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے، تاہم قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے مفاد میں اس پر پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جب آئینی حدود کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو بعد میں اسے غیر منصفانہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی بحث یا اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانے سے سفارتی غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے ریاست کا اختیار ہیں اور میڈیا مبصرین کو ایسے بیانیے سے گریز کرنا چاہیے جنہیں بیرونِ ملک پاکستان کے سرکاری مؤقف کے طور پر لیا جا سکتا ہو۔حکام نے اس موقع پر کہا کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دی جانے والی بعض آراء عالمی سطح پر یہ تاثر پیدا کرتی ہیں کہ وہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہیں، حالانکہ وہ انفرادی تجزیہ کاروں یا سوشل میڈیا صارفین کی ذاتی رائے ہوتی ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں آن لائن اظہارِ رائے کی حدود اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے استعمال سے  متعلق بحث جاری ہے۔ حکام اس قانون کو ڈیجیٹل مواد سے متعلق بعض مقدمات میں استعمال کرتے رہے ہیں۔سینئر حکام کی جانب سے خارجہ پالیسی پر تبصرے سے متعلق “سرخ لکیروں” کی بات نیوز رومز کی ادارتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور یہ طے کر سکتی ہے کہ صحافی بین الاقوامی خبروں کو کس انداز میں پیش کریں۔ پاکستانی میڈیا کے پیشہ ور افراد کے لیے یہ بیانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ سفارتی اتحادوں پر بحث، خاص طور پر علاقائی تنازعات کے دوران، قانونی اور سیاسی حساسیت رکھتی ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں