قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے وزارت کو ہدایت کی کہ ذیلی اداروں کے سربراہوں کی تقرری ریٹائر منٹ سے 30 دن پہلے شروع کی جائے، کمیٹی نے اپنے اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام تمام ایکٹ اور قوانین کو وفاقی کابینہ کے فیصلے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان کا جائزہ لے۔ کمیٹی کا اجلاس ایم این اے پلین بلوچ کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مصطفیٰ امپیکس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ، وفاقی کابینہ نے الفاظ کی تبدیلی کے لیے وزارت قانون کی مشاورت سے متعلقہ ایکٹ اور قوانین میں ترامیم کرنے کی ہدایت کردی۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002، نیوز پیپر ایمپلائیز (کنڈیشن آف سروس) ایکٹ 1973 اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان آرڈیننس 2002 میں وفاقی حکومت کو مناسب اتھارٹیز سے تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ کمیٹی نے بحث کے بعد بلز کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ کمیٹی نے سرکاری ٹی وی کے مستقل سربراہ کی تقرری اور اسے ایک قابل عمل اور خود کفیل ادارہ بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ ماضی میں ٹی وی اقربا پروری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا شکار رہا ہے۔اجلاس کے دوران کمیٹی نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی)، پیمرا اور دیگر متعلقہ اداروں میں سربراہان کی بروقت تعیناتی نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اراکینِ کمیٹی کا کہنا تھا کہ اہم عہدوں پر طویل عرصے سے تعیناتیاں نہ ہونے کے باعث اداروں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو پی ٹی وی میں جاری اصلاحاتی عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے میں انتظامی اور مالی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔ وزیر نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اصلاحات کا مقصد اداروں کو مستحکم اور خود کفیل بنانا ہے۔کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ میڈیا سے متعلق تمام قوانین اور ضابطوں کا جامع جائزہ لیا جائے اور انہیں موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اداروں میں مالی شفافیت، ملازمین کے مسائل اور تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق امور پر بھی توجہ دینے کی سفارش کی گئی۔اجلاس میں اراکینِ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد، ذمہ دار اور مؤثر میڈیا ادارے جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ کمیٹی نے وزارتِ اطلاعات کو ہدایت کی کہ اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، اراکین قومی اسمبلی ندیم عباس، کرن عمران ڈار، رومینہ خورشید عالم، کرن حیدر، شاہین، مہتاب اکبر راشدی، سحر کامران اور رانا انصار نے شرکت کی، جبکہ سیکریٹری وزارتِ اطلاعات و نشریات اور وزارت کے ماتحت محکموں کے دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں بعض اراکین نے زوم کے ذریعے شرکت کی۔
