معیدپیرزادہ اور فخردرانی میں تنازع شدت اختیارکرگیا۔۔

معروف اینکرپرسن معید پیرزادہ اور دی نیوز سے تعلق رکھنے والے تحقیقاتی رپورٹر فخر درانی کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ، معیدپیرزادہ نے فخر درانی کو ایف بی آئی اور امریکی محکمہ خارجہ کو رپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔معید پیرزادہ کا الزام ہے کہ درانی نے ان کی نجی بینکنگ معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کیں، جو کہ مالیاتی رازداری اور امریکی بینکاری قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔دی نیوز میں 22 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں، درانی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان سے فرار کے بعد معید پیرزادہ نےامریکہ کے پوش علاقے میری لینڈ کے پوٹومک میں دو کنال کا پرتعیش گھر 10.5 لاکھ ڈالر میں کیسے خریدا؟معید کا کہنا ہے کہ وہ 19 مئی کو فخر درانی کی طرف سے موصولہ ای میل، دی نیوز میں شائع شدہ خبر، اور اعزاز سید کے ساتھ انٹرویو کو ایف بی آئی کو فراہم کریں گے۔یہ شواہد بینکاری قواعد کی سنگین خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کو بھی آگاہ کیا جانا چاہیے کیونکہ فخر درانی بار بار امریکہ کا سفر کرتے ہیں۔ معید نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ بین الاقوامی جبر (transnational repression) کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ میں ایک خطرے سے دوچار صحافی ہوں۔معید نے 30 اکتوبر 2022 کو پاکستان چھوڑ دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ تب سے وہ پاکستان میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جن کا تعلق ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور مبینہ ریاست مخالف بیانیوں سے ہے۔اپنے دفاع میں، معید نے وضاحت دی کہ امریکہ میں گھر کی خریداری کے لیے رقم برطانیہ میں ان کے اپارٹمنٹ کی فروخت سے حاصل ہوئی۔میری اہلیہ نے لندن اسکول آف اکنامکس سے اکنامکس میں گریجویشن اور کولمبیا یونیورسٹی نیویارک سے انٹرنیشنل فنانس میں ماسٹرز کیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی مشاورتی اداروں (NERA)، امریکی سرمایہ کاری بینکوں (جیسے لیہمن برادرز)، اور برطانوی بینک اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے ساتھ کام کیا۔ 2006 میں خریدا گیا لندن کا اپارٹمنٹ 2023 میں بیچ کر امریکی گھر میں ڈپازٹ کیا گیا۔معید نے سوال اٹھایا کہ کیا فخر درانی یہ مالیاتی معلومات پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی مدد کے بغیر حاصل کر سکتے تھے؟ انہوں نے فخر کو “نااہل صحافی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکس ریٹرن بھی نہیں پڑھ سکتے۔ میری اہلیہ نے پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشواروں میں لندن اپارٹمنٹ ظاہر کیا۔ فخر درانی نے میری امریکی بینکنگ معلومات چرائیں، عوام کو لندن اپارٹمنٹ کے بارے میں گمراہ کیا، اور اعزاز سید کے ساتھ ہمارے خاندانی اثاثوں پر گفتگو کی گویا وہ قانون سے بالاتر ہیں۔دوسری جانب فخر درانی نے انٹیلیجنس ایجنسیوں سے کسی بھی قسم کے تعلق کی سختی سے تردید کی۔جس دن یہ ثابت ہو گیا کہ میں خفیہ ایجنسیوں کے پے رول پر ہوں، میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ مالی تحقیقات کرنے والے جانتے ہیں کہ اس قسم کا ڈیٹا قانونی طور پر کیسے حاصل کیا جاتا ہے۔فخر درانی نے دی نیوز کا بھی دفاع کیا۔ 24 مئی کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا، میرے ادارے کو اس خبر کا علم اس وقت ہوا جب میں نے اسے فائل کیا۔ چار دن تک خبر شائع نہیں ہوئی۔ برطانیہ اور امریکہ میں جنگ گروپ نے اسے قانونی مشیران کو بھیجا۔ تمام سوالات، جوابات اور شواہد کی تصدیق کے بعد ایڈیٹوریل بورڈ نے خبر کو کلیئر کیا۔ اسی روز ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا،میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا آئی ایس آئی کے کسی بھی فرد سے کبھی رابطہ نہیں رہا۔ اگر کوئی اس کے برعکس ثابت کر دے، تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں