مطیع اللہ جان پر 20 دسمبرکو فردجرم عائد ہوگی۔۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف درج مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عدالت میں ہونے والی حالیہ سماعت کے دوران منشیات سے متعلق الزامات خارج کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد کارروائی کو اگلے مرحلے تک بڑھا دیا گیا۔مطیع اللہ جان کے خلاف درج مقدمے میں منشیات اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت الزامات شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ نومبر میں پیش آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مطیع اللہ جان کے قبضے سے منشیات برآمد ہوئیں اور انہوں نے پولیس کارروائی میں مزاحمت کی۔ تاہم صحافی اور ان کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔عدالت میں سماعت کے دوران مطیع اللہ جان کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ منشیات کی مبینہ برآمدگی کا کوئی نجی گواہ موجود نہیں اور نہ ہی واقعے کی کوئی ویڈیو ریکارڈنگ پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کیس کے ریکارڈ میں موجود شواہد الزامات کی تائید نہیں کرتے، جبکہ ایک عدالتی رپورٹر کا حلفیہ بیان بھی دفاع کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔اس موقع پر استغاثہ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت پہلے ہی منشیات کے الزامات پر بادی النظر میں رائے دے چکی ہے۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس وقت مقدمہ فردِ جرم کے مرحلے تک نہیں پہنچا تھا، اس لیے قانونی نکات پر غور ابھی باقی ہے۔عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد منشیات کے الزامات خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 20 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی۔ آئندہ سماعت پر یہ طے کیا جائے گا کہ کن الزامات کے تحت باقاعدہ ٹرائل کا آغاز کیا جائے گا۔صحافتی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے اس مقدمے کو گہری نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور اسے صحافیوں کے خلاف دباؤ کے تناظر میں بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ مطیع اللہ جان مسلسل اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے آ رہے ہیں۔واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو 26 نومبر 2024 کی رات اسلام آباد کے سیکٹر ای 9 سے پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے مبینہ طور پر گرفتاری کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے گاڑی پولیس ناکے سے ٹکرا دی اور سرکاری اسلحہ چھین لیا۔ایف آئی آر میں منشیات ایکٹ (سی این ایس اے) کی دفعہ 9(2)4 شامل کی گئی ہے جس کے تحت ان پر 100 سے 500 گرام آئس رکھنے کا الزام ہے جبکہ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی دفعہ 7 بھی لگائی گئی ہے۔ابتدائی طور پر انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد میں یہ فیصلہ کالعدم قرار دے کر انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا بعد ازاں وکلا ایمان زینب مزاری اور ہادی علی نے ان کی ضمانت بعد از گرفتاری حاصل کر لی تھی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں